
وفاقی حکومت نے جمعہ کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جس کے بعد دونوں مصنوعات کی قیمتیں 414 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 9 مئی سے ہو گیا ہے۔

پیٹرول زیادہ تر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، جس کے باعث اس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور بڑے جنریٹرز میں استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی قیمت بڑھنے سے اشیائے خورونوش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث حالیہ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینا شروع کر رکھا ہے۔ عالمی توانائی بحران میں شدت اس وقت آئی جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل سپلائی متاثر ہوئی۔ امن کے زمانے میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس تجارت اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی اس کشیدگی کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ 6 مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ حکومت نے مالی دباؤ کم کرنے کے لیے سخت کفایتی اقدامات کا بھی اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے متعدد مواقع پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھانے کی تجاویز مسترد کیں۔ تاہم 2 اپریل کو وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی مارکیٹ میں غیر معمولی صورتحال اور مالی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا تھا۔
اس موقع پر حکومت نے ہدفی ایندھن سبسڈی پروگرام کا اعلان بھی کیا تھا تاکہ کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ تاہم اگلے ہی روز وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر تک کم کر دی تھی۔
10 اپریل کو حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں مزید 135 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی کی تھی، لیکن حالیہ ہفتوں میں قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
ماہرین معیشت کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ، زرعی اور صنعتی لاگت میں اضافے کے باعث عوام پر مالی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead