بدھ , مئی 13 2026

مالی خسارہ 9 ماہ میں 856 ارب روپے تک پہنچ گیا

مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان کی مالی صورتحال شدید دباؤ کا شکار ہوگئی، جہاں جولائی تا مارچ کے دوران مجموعی بجٹ خسارہ بڑھ کر 856.4 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے برابر ہے۔

وزارت خزانہ کی جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال مالی سال کے پہلے نصف میں موجود 541.9 ارب روپے کے سرپلس کے برعکس سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کو آمدن بڑھانے اور اخراجات قابو میں رکھنے میں مشکلات کا سامنا رہا جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے متعدد اقدامات کے باوجود مالی دباؤ کم نہ ہوسکا۔ زرعی آمدنی ٹیکس، جو آئی ایم ایف کی ایک اہم شرط تھی، اس کی وصولیوں سے متعلق کوئی تفصیلات رپورٹ میں شامل نہیں کی گئیں، جس سے اس شعبے میں پیش رفت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ملک کی مجموعی آمدن 14 ہزار 799 ارب روپے رہی، جبکہ مجموعی اخراجات 16 ہزار 99 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی 5 ہزار 607 ارب روپے سے تجاوز کرگئی، جس میں مقامی قرضوں پر 4 ہزار 947 ارب روپے اور بیرونی قرضوں پر 660 ارب روپے خرچ ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دفاعی اخراجات 1 ہزار 689 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص رقم کا صرف 32 فیصد خرچ کیا جاسکا۔ وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 323 ارب روپے جاری کیے گئے، جس سے ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ملک میں شماریاتی فرق یا “اسٹیٹسٹیکل ڈسکریپینسی” بھی خطرناک حد تک بڑھ کر منفی 443 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ صوبائی حکومتوں میں یہ فرق 503 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ کمرشل بینکوں میں رقوم کی منتقلی اور مالیاتی رپورٹنگ میں تاخیر بتائی گئی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی تا مارچ 9 ہزار 306 ارب روپے ٹیکس جمع کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اضافہ حکومتی اہداف کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ دوسری جانب غیر ٹیکس آمدن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع نے سب سے بڑا حصہ ڈالا، جو 2 ہزار 428 ارب روپے رہا۔

پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت نے 1 ہزار 205 ارب روپے وصول کیے جبکہ کاربن لیوی، ایل پی جی لیوی اور نیو انرجی وہیکل لیوی سمیت دیگر ٹیکسوں سے بھی اربوں روپے حاصل کیے گئے۔ اس کے باوجود مالی خسارہ کم نہ ہوسکا۔

رپورٹ کے مطابق سبسڈیز پر 632 ارب روپے، پنشن کی مد میں 754 ارب روپے جبکہ دیگر گرانٹس کے لیے ایک ہزار 217 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 5 ہزار 630 ارب روپے منتقل کیے گئے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا مالی خسارہ، قرضوں پر بھاری سودی ادائیگیاں اور ترقیاتی اخراجات میں کمی پاکستان کی معیشت کے لیے تشویشناک اشارے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر محصولات میں خاطر خواہ اضافہ اور اخراجات میں مؤثر کمی نہ کی گئی تو حکومت کو آئندہ بجٹ میں مزید سخت مالی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

کیمبرج ریاضی کا دوسرا پرچہ بھی لیک

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے اے ایس لیول ریاضی کے دوسرے پرچے کے بھی لیک ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے