
قطر سے پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر آنے والا دوسرا جہاز خصوصی ایرانی اجازت کے بعد آبنائے ہرمز میں داخل ہو گیا ہے، جس سے پاکستان کو گیس بحران میں ممکنہ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
شپنگ ذرائع کے مطابق گزشتہ 15 روز کے دوران ایران نے پاکستان کے لیے تیسرے ایل این جی بردار جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز “مزہم” جزیرہ ہنگم کے قریب سے گزر رہا ہے اور اس میں قطر کے راس لفان ٹرمینل سے ایل این جی لوڈ کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ایل این جی پاکستان میں اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر اتاری جائے گی، جبکہ قطر سے آنے والا ایک اور جہاز “الخریطیات” پہلے ہی کراچی پہنچ چکا ہے۔
پاکستان پہنچنے والا پہلا ایل این جی کارگو 30 اپریل کو پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوا تھا، جو اوپن بڈنگ کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں آنے والے دونوں کارگو پاکستان اور قطر کے درمیان طویل المدتی ایل این جی معاہدے کے تحت فراہم کیے جا رہے ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت شدید گیس قلت کا سامنا کر رہا ہے اور قطر سے ایل این جی سپلائی کی بحالی ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
علاقائی کشیدگی اور ایران۔امریکا تنازع کے باعث آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی بحری راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قطر سے ایل این جی کارگو کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہی تو پاکستان میں صنعتی اور گھریلو صارفین کو درپیش گیس بحران میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead