جمعہ , مئی 15 2026

PCB سینٹرل کنٹریکٹس میں بڑی تبدیلی کا امکان

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹس کا مالی ماڈل 30 جون کو ختم ہو رہا ہے۔ نیا سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم یکم جولائی سے نافذ العمل ہو گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ سیزن میں بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے۔ چیئرمین محسن نقوی حتمی فیصلے کے مجاز ہوں گے۔

کھلاڑیوں کی کیٹیگریز میں بڑے پیمانے پر ردوبدل متوقع ہے۔ یہ تبدیلی پرفارمنس اور فٹنس بنیاد پر کی جائے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ برس بھی معمولی تبدیلیاں کی تھیں۔ Pakistan Cricket Board کی پالیسی میں تسلسل کے ساتھ اصلاحات جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 2023 میں نیا تین سالہ مالی ماڈل متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ ماڈل سابق چیئرمین ذکاء اشرف کے دور میں منظور ہوا تھا۔ اس ماڈل میں کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور کیٹیگریز کو ازسرنو ترتیب دیا گیا تھا۔ موجودہ چیئرمین کے دور میں بنیادی ڈھانچہ برقرار رکھا گیا۔ تاہم کارکردگی کی بنیاد پر تبدیلیاں وقتاً فوقتاً ہوتی رہیں۔ اس نظام کا مقصد کارکردگی پر مبنی ٹیم کلچر فروغ دینا تھا۔ کرکٹ ماہرین نے اس ماڈل کو جزوی طور پر مؤثر قرار دیا تھا۔ کچھ حلقوں نے اسے غیر مستقل مزاجی بھی قرار دیا۔

گزشتہ سال تقریباً 30 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔ پہلی مرتبہ کسی کھلاڑی کو اے کیٹیگری میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ بی اور سی کیٹیگریز میں زیادہ کھلاڑی شامل کیے گئے تھے۔ ڈی کیٹیگری میں نئے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑی رکھے گئے تھے۔ اس پالیسی نے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مواقع بڑھائے تھے۔ تاہم سینئر کھلاڑیوں کی آمدن پر سوالات بھی اٹھے تھے۔ Pakistan Cricket Board نے اس پر واضح مؤقف نہیں دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نئے سینٹرل کنٹریکٹس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی ہوگی۔ کئی کھلاڑیوں کی کیٹیگری میں تنزلی کا امکان موجود ہے۔ جبکہ کچھ کھلاڑیوں کی ترقی بھی متوقع ہے۔ سلیکشن کمیٹی کارکردگی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔ فٹنس ٹیسٹس بھی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ موجودہ ڈھانچے میں تسلسل کے باوجود اصلاحات زیر غور ہیں۔ بورڈ مالی ماڈل کو زیادہ کارکردگی سے جوڑنے کا خواہاں ہے۔ کھلاڑیوں کی ریٹنگ سسٹم کو مزید سخت بنایا جا سکتا ہے۔

محمد نواز، عبداللہ شفیق اور فہیم اشرف کے مستقبل پر سوالات ہیں۔ حسین طلعت اور خوشدل شاہ کی شمولیت کا امکان کم بتایا جا رہا ہے۔ یہ کھلاڑی حالیہ کارکردگی میں تسلسل قائم نہیں رکھ سکے۔ سلیکٹرز نوجوان پرفارمرز کو موقع دینے پر غور کر رہے ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ سے کئی نئے نام سامنے آ رہے ہیں۔ ازان اویس اور عبداللہ فضل کو مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ ان کھلاڑیوں نے حالیہ سیزن میں متاثر کن کارکردگی دکھائی ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ سسٹم کو بہتر سلیکشن فیکٹر بنایا جا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کھلاڑیوں کے ناموں پر ابتدائی مشاورت جاری ہے۔ حتمی فہرست یکم جولائی سے قبل جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ چیئرمین محسن نقوی اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ کارکردگی اور ڈسپلن کو ترجیح دینے کے خواہاں ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ بھی اس حوالے سے سفارشات دے رہی ہے۔ فٹنس لیول کو بنیادی معیار بنایا جا رہا ہے۔ کھلاڑیوں کی مستقل مزاجی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ تمام فیصلے قومی ٹیم کی بہتری سے منسلک ہیں۔

بین الاقوامی کرکٹ کے تناظر میں پاکستان کی کارکردگی غیر مستقل رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹیم نے اہم سیریز میں مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ ورلڈ کپ اور ٹی ٹوئنٹی ایونٹس میں نتائج مایوس کن رہے۔ اس وجہ سے سینٹرل کنٹریکٹس میں سختی کی جا رہی ہے۔ نے بھی ٹیم کی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹس شائع کی ہیں۔ عالمی سطح پر مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کو مستقل مزاجی کے لیے اصلاحات درکار ہیں. ICC کے مطابق عالمی کرکٹ میں معیار بلند ہو رہا ہے۔

مالی ماڈل میں تبدیلی سے کھلاڑیوں کی آمدن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ سینٹرل کنٹریکٹس کا مقصد کارکردگی کو مالی ترغیب سے جوڑنا ہے۔ بورڈ آمدن اور اخراجات میں توازن چاہتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ دباؤ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کارکردگی کو یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ حکمت عملی طویل المدتی ٹیم پلاننگ کا حصہ ہے۔نے بھی اس رجحان کو رپورٹ کیا ہے۔ کھلاڑیوں کی ری اسٹرکچرنگ سے ٹیم ڈائنامکس بدل سکتی ہے۔

ماضی میں سینٹرل کنٹریکٹس ہمیشہ سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں سے متاثر رہے ہیں۔ ہر نئے چیئرمین کے ساتھ پالیسی میں ردوبدل ہوتا رہا ہے۔ اس بار بھی یہی رجحان دوبارہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ 2023 کے ماڈل کو اب مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔ اس سے کھلاڑیوں پر کارکردگی کا دباؤ بڑھے گا۔ ٹیم سلیکشن میں شفافیت کو بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نتیجتاً پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا کنٹریکٹ ماڈل فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ آئندہ چند دنوں میں اہم اعلان متوقع ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی قومی ٹیم کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ نئے سینٹرل کنٹریکٹس سے ٹیم کا ڈھانچہ بڑی حد تک تبدیل ہو سکتا ہے۔ حتمی فیصلے کے بعد قومی ٹیم کی سمت واضح ہو جائے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ آنے والے سیزن میں سخت کارکردگی معیار نافذ کرنے جا رہا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بلاول بھٹو کا شازیہ مری کو جواب، ویڈیو وائرل

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے