جمعہ , مئی 15 2026

ہفتہ وار مہنگائی میں 0.47 فیصد اضافہ

پیٹرول اور آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں

پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں پیٹرول، ڈیزل، ٹماٹر اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں بڑھوتری دیکھی گئی۔

پاکستان بیورو شماریات (پی بی ایس) نے 14 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے حساس قیمت اشاریہ (SPI) رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی میں 0.47 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 17 شہروں اور 50 مارکیٹوں سے 51 ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔

پی بی ایس کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹر کی قیمت میں ریکارڈ کیا گیا، جو ایک ہفتے کے دوران 22.13 فیصد بڑھ گئی۔ مردانہ اسپنج چپل کی قیمت 16.69 فیصد اور خواتین کی سینڈل کی قیمت 7.15 فیصد بڑھ گئی۔ آٹے کی قیمت میں 4.94 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عوام پر مہنگائی کا مزید دباؤ بڑھ گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 3.76 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 3.73 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی لاگت مزید بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات عام صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔

دیگر اشیائے خورونوش میں پیاز کی قیمت 2.98 فیصد، کیلے 1.93 فیصد اور آلو 0.74 فیصد مہنگے ہوئے۔ دہی، تازہ دودھ اور چینی کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 51 اشیاء میں سے 23 کی قیمتوں میں اضافہ، 9 میں کمی جبکہ 19 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

دوسری جانب بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ مرغی کی قیمت 6.34 فیصد کم ہوئی جبکہ انڈے 3.83 فیصد سستے ہوئے۔ لہسن کی قیمت میں 2.20 فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں 1.23 فیصد کمی دیکھی گئی۔ مختلف دالوں کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔

سالانہ بنیاد پر حساس قیمت اشاریہ میں 14.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملک میں مسلسل مہنگائی کے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک سال کے دوران پیٹرول کی قیمت 64.23 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت 61.61 فیصد بڑھ گئی۔

گندم کے آٹے کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر 57.56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی سہ ماہی کے بجلی چارجز 52.58 فیصد بڑھ گئے، جبکہ پیاز 50.06 فیصد اور ایل پی جی 48.34 فیصد مہنگی ہوئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 40.66 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مٹن اور بیف کی قیمتوں میں بھی دو ہندسوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

تاہم بعض اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ کمی بھی سامنے آئی۔ آلو 43.07 فیصد، دال چنا 21.33 فیصد، مرغی 20.67 فیصد اور انڈے 18.22 فیصد سستے ہوئے۔ چینی کی قیمت میں بھی 15.04 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی بڑی وجوہات میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی نرخوں میں ردوبدل اور سپلائی چین کے مسائل شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر توانائی اور خوراک کی قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا تو مہنگائی کا دباؤ آئندہ مہینوں میں بھی برقرار رہ سکتا ہے۔

پی بی ایس کا حساس قیمت اشاریہ ملک میں قلیل مدتی مہنگائی کے رجحانات جانچنے کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی مہنگائی کی سمت آئندہ مہینوں میں عالمی تیل قیمتوں، مقامی توانائی پالیسی اور زرعی پیداوار سے جڑی رہے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بلاول بھٹو کا شازیہ مری کو جواب، ویڈیو وائرل

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے