جمعہ , مئی 15 2026

موبائل انٹرنیٹ کی رفتار عالمی معیار سے پیچھے

پی ٹی اے کی Q1 2026 رپورٹ کے مطابق پاکستان کے موبائل نیٹ ورکس کی کارکردگی میں بہتری کے باوجود عالمی معیار سے واضح فرق برقرار ہے

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اوپن سگنل کے اشتراک سے موبائل نیٹ ورک ایکسپیرینس بینچ مارکنگ رپورٹ برائے پہلی سہ ماہی 2026 جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں موبائل نیٹ ورکس کی کارکردگی میں نمایاں فرق، کم انٹرنیٹ اسپیڈ اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان واضح ڈیجیٹل خلا بدستور موجود ہے۔ یہ رپورٹ 159 اضلاع سے حاصل کیے گئے 1.23 ارب حقیقی صارفین کے ڈیٹا پر مبنی ہے، جو ملک بھر میں نیٹ ورک کارکردگی کی اصل صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسط ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 18.60 ایم بی پی ایس ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ہائی اینڈ ڈیوائسز پر یہ رفتار تقریباً 30.20 ایم بی پی ایس تک پہنچتی ہے۔ تاہم اوسط اپ لوڈ اسپیڈ صرف 5.81 ایم بی پی ایس ہے، جو ویڈیو کالز، کلاؤڈ اپ لوڈز اور ریموٹ ورک جیسے جدید ڈیجیٹل استعمال کے لیے ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی رفتار اور 5G تیاری پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ زونگ ملک میں سب سے آگے رہا، مگر اس کی اوسط ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 18.62 ایم بی پی ایس ہی رہی، جو مجموعی قومی اوسط سے معمولی بہتر ہے۔ جاز 17.62 ایم بی پی ایس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ یوفون کی اسپیڈ 12.36 ایم بی پی ایس ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب ٹیلی نار سب سے کمزور پرفارمر ثابت ہوا جس کی ڈاؤن لوڈ اسپیڈ صرف 6.66 ایم بی پی ایس رہی اور اپ لوڈ اسپیڈ 2.44 ایم بی پی ایس تک محدود رہی۔

اوپن سگنل کے معیار کے مطابق ٹیلی نار کی ویڈیو اور گیمنگ ایکسپیرینس بھی دیگر نیٹ ورکس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور رہا۔ بعض علاقوں میں بہتر کارکردگی کے باوجود مجموعی قومی سطح پر اس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔

رپورٹ میں ملک بھر میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان واضح فرق بھی سامنے آیا ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں نسبتاً بہتر اسپیڈز ریکارڈ کی گئیں، تاہم شمالی اور سرحدی علاقوں جیسے پشاور اور گلگت میں کارکردگی کمزور رہی۔ کئی مقامات پر نیٹ ورک اسپیڈ کم درجوں میں رہی اور اسٹریمنگ معیار “فیئر” یا “پُور” کیٹیگری میں آتا رہا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں اپ لوڈ اسپیڈ کی کمزوری ایک بڑا مسئلہ ہے، جو کلاؤڈ بیسڈ سروسز، فری لانسنگ اور ریموٹ ورک کو متاثر کر رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں انفراسٹرکچر کی کمی، فائبر بیک ہال کی سست توسیع اور اسپیکٹرم کی محدود دستیابی شامل ہیں۔

صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی نیٹ ورک سروسز کے حوالے سے شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔ لوگ بار بار کال ڈراپ، کمزور انڈور سگنل اور پیک آورز میں سروس کی خرابی کی شکایت کرتے ہیں۔ ان خدشات نے رپورٹ کے نتائج کو عملی تجربے سے جوڑ کر مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

پی ٹی اے رپورٹ کے مطابق اگرچہ مقابلہ موجود ہے، لیکن مجموعی طور پر پاکستان کا موبائل نیٹ ورک سسٹم اب بھی ترقی پذیر مرحلے میں ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر انفراسٹرکچر میں بہتری، اسپیکٹرم اصلاحات اور فائبر نیٹ ورک کی توسیع نہ کی گئی تو ملک 5G اور ڈیجیٹل معیشت کے اہداف میں مزید پیچھے رہ سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بلاول بھٹو کا شازیہ مری کو جواب، ویڈیو وائرل

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے