بدھ , مئی 13 2026

ہفتہ وار مہنگائی میں 0.79 فیصد اضافہ ریکارڈ

پاکستان میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں 0.79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ چکن، پیٹرول، ڈیزل اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ حساس قیمت اشاریہ (SPI) رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔

پی بی ایس کے مطابق 7 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران چکن کی قیمت میں سب سے زیادہ 12.82 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل کی قیمت 5.10 فیصد بڑھ گئی۔ اسی طرح آٹے کی قیمت میں 3.42 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 1.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دہی، تازہ دودھ، گائے کے گوشت، چائے، مٹن اور آلو کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ واشنگ صابن اور سگریٹ کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب بعض اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 7.08 فیصد کمی ہوئی جبکہ لہسن، انڈے، ایل پی جی، دال مسور، پیاز اور چاول کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

پی بی ایس کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے دوران 51 بنیادی اشیاء میں سے 22 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 14 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 15 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

سالانہ بنیادوں پر حساس قیمت اشاریہ میں 15.16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں پیٹرول کی قیمت 58.32 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت 55.76 فیصد زیادہ رہی۔ بجلی کے نرخوں میں بھی 52.58 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

آٹے کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 50.65 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایل پی جی 48.82 فیصد مہنگی ہوئی۔ پیاز، مٹن، لال مرچ، لہسن، گائے کے گوشت اور خشک دودھ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم کچھ اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ کمی بھی سامنے آئی۔ آلو کی قیمت 44.58 فیصد کم ہوئی جبکہ چنے کی دال، چینی، نمک، دال مسور اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ حالیہ ایندھن اور توانائی نرخوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھنے سے خوراک کی قیمتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

حساس قیمت اشاریہ ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 بنیادی اشیاء کی قیمتوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے تاکہ مختصر مدت کے دوران مہنگائی کے رجحان کا اندازہ لگایا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مالی خسارہ 9 ماہ میں 856 ارب روپے تک پہنچ گیا

مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان کی مالی صورتحال شدید دباؤ کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے