پاکستان میں اپریل 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا–قلیل مدتی بنیاد پر قیمتوں کے رجحان میں بھی اضافہ

ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صارف قیمت اشاریہ (CPI) پر مبنی مہنگائی اپریل میں سالانہ بنیاد پر 10.9 فیصد رہی، جو مارچ میں 7.3 فیصد اور اپریل 2025 میں محض 0.3 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ 10.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ ملک بھر میں یکساں طور پر موجود ہے۔ ماہانہ بنیاد پر شہری مہنگائی میں 2.7 فیصد اور دیہی علاقوں میں 2.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قلیل مدتی بنیاد پر قیمتوں کے رجحان میں بھی اضافہ سامنے آیا۔ حساس قیمت اشاریہ (SPI)، جو ضروری اشیائے خوردونوش کی ہفتہ وار قیمتوں کو ظاہر کرتا ہے، 30 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں 0.62 فیصد بڑھ گیا۔ اس دوران ڈیزل کی قیمت میں 7.53 فیصد اور پیٹرول میں 7.18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آٹے کی قیمت میں 4.74 فیصد اضافہ ہوا۔
ہفتہ وار بنیاد پر 51 اشیاء میں سے 14 کی قیمتوں میں اضافہ، 13 میں کمی جبکہ 24 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ تاہم مجموعی رجحان مہنگائی کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے۔
سالانہ بنیاد پر SPI مہنگائی 14.52 فیصد تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہے۔ گزشتہ ایک سال میں پیٹرول کی قیمت میں 54.44 فیصد، بجلی کے نرخوں میں 52.58 فیصد، ایل پی جی میں 47.95 فیصد اور ڈیزل میں 47.05 فیصد اضافہ ہوا۔
خوراک کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس میں آٹے کی قیمت 44.57 فیصد اور پیاز کی قیمت 39.55 فیصد بڑھی، جبکہ گوشت کی قیمتوں میں بھی دو ہندسی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق تھوک قیمت اشاریہ (WPI) بھی سالانہ بنیاد پر 13.6 فیصد بڑھ گیا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر اس میں 5.1 فیصد اضافہ ہوا، جو پیداواری لاگت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے، توانائی کے نرخوں اور عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں بھی قیمتوں کا دباؤ کم ہونے کے امکانات محدود ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بلند مہنگائی سے عوام کی قوت خرید متاثر ہو رہی ہے اور معاشی بحالی کے عمل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث حکومت کے لیے قیمتوں پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
UrduLead UrduLead