
پنجاب حکومت آج (منگل) مالی سال 2026-27 کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کرے گی، جس کا مجموعی حجم 5 کھرب روپے سے زائد رہنے کا امکان ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن بجٹ تجاویز ایوان میں منظوری کے لیے پیش کریں گے۔
بجٹ پیش کیے جانے سے قبل صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پہلے ہی اہم مالی تجاویز کی منظوری دے چکی ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم محاصل سے 3 کھرب روپے سے زائد فنڈز ملنے کی توقع ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی مالی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب نے 570 ارب روپے کی مالی گنجائش وفاق کے لیے چھوڑنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر مالیاتی نظم و ضبط کے تحت رواں سال پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں کمی کا امکان ہے۔ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی سفارشات کی روشنی میں ترقیاتی اخراجات کو محدود رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
مجوزہ بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز بھی شامل ہونے کا امکان ہے، جو وفاقی حکومت کے حالیہ فیصلوں کے مطابق ہوگی۔ اسی طرح مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کا اعلان بھی متوقع ہے۔
پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وزیر خزانہ بجٹ تقریر کے دوران صوبائی حکومت کی مالی ترجیحات، محصولات کے اہداف، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ریلیف کے اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیں گے۔
مالی سال 2026-27 کا بجٹ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت کا تیسرا بجٹ ہوگا، جس میں معاشی استحکام، عوامی سہولتوں میں بہتری اور پائیدار ترقی کے اہداف کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
UrduLead UrduLead