Related Articles

ایف بی آر نے گزشتہ چار مالی سالوں میں بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 1.866 ٹریلین روپے وصول کیے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بجلی کے بلوں کے ذریعے گزشتہ چار مالی سالوں میں 1.866 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کیا ہے۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے 476.1 ارب روپے وصول کیے گئے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں ٹیکسوں کو مزید معقول بنایا گیا تو وصولیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق بجلی کا شعبہ سب سے زیادہ مراعات حاصل کرنے والے شعبوں میں شامل ہے اور ملکی جی ڈی پی میں اس کا اہم حصہ ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق مالی سال 2022-23 میں بجلی کے بلوں سے 312.8 ارب روپے ٹیکس وصول ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں یہ وصولی بڑھ کر 515.5 ارب روپے ہوگئی، جبکہ 2024-25 میں ایف بی آر نے 562 ارب روپے جمع کیے۔
مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے 476.1 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ اس میں 351.8 ارب روپے سیلز ٹیکس جبکہ 124.4 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں وصول ہوئے۔
دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال سیلز ٹیکس کی مد میں 269.1 ارب روپے معمول کے سیلز ٹیکس سے حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ 54.98 ارب روپے اضافی ٹیکس اور 16.54 ارب روپے مزید ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے۔
بجلی کے ذریعے ریٹیلرز کو فراہم کی جانے والی بجلی پر سیلز ٹیکس کی مد میں مزید 11.14 ارب روپے وصول کیے گئے۔ یوں مالی سال 2025-26 میں بجلی کے شعبے سے سیلز ٹیکس وصولی 351.8 ارب روپے رہی۔
انکم ٹیکس کی وصولی میں صنعتی صارفین کا حصہ سب سے زیادہ رہا۔ ایف بی آر نے صنعتی صارفین سے 66.18 ارب روپے، کمرشل صارفین سے 51.99 ارب روپے وصول کیے۔
دستاویز کے مطابق گھریلو نان فائلرز سے 4.83 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا۔ سیکشن 235A کے تحت مزید 1.37 ارب روپے جمع ہوئے، جس سے مجموعی انکم ٹیکس وصولی 124.36 ارب روپے رہی۔
تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی کے بل پاکستان کے ٹیکس نظام میں اہم وصولی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ تاہم بجلی کے شعبے میں ٹیکس مراعات، توانائی کی قیمتوں اور صنعتی لاگت سے متعلق پالیسی بحث آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead