
پاکستان اور انگلینڈ کے مابین جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن ڈیبیو کرنے والے تیز گیند باز رضا اللّٰہ کی شاندار بلے بازی نے پاکستانی اننگز کو سہارا دیا اور میزبان انگلینڈ کے خلاف 129 رنز کی قیمتی برتری حاصل کر لی۔
ایڈجبسٹن کے میدان میں کھیلے جانے والے اس مقابلے میں پاکستان نے دوسری اننگز میں 449 رنز بنا کر آل آؤٹ ہونے سے پہلے میزبان ٹیم پر واضح دباؤ ڈال دیا۔
میچ کا احوال
پہلی اننگز میں پاکستان صرف 133 رنز پر ڈھیر ہو گیا تھا، جس کے جواب میں انگلینڈ نے 453 رنز کا مجموعہ اکٹھا کر کے 320 رنز کی نمایاں برتری حاصل کر لی تھی۔ تاہم دوسری اننگز میں پاکستانی بلے بازوں نے واپسی کرتے ہوئے 96.4 اوورز میں 449 رنز بنائے۔
اننگز کی سب سے نمایاں کارکردگی 21 سالہ ڈیبیو کرنے والے تیز گیند باز رضا اللّٰہ کی رہی، جنہوں نے 63 گیندوں پر جارحانہ 81 رنز کی اننگز کھیلی اور اپنی اننگز میں متعدد چوکے اور چھکے رسید کیے۔
ڈین لارنس نے رضا اللّٰہ کو آؤٹ کر کے پاکستانی اننگز کا خاتمہ کیا، جس کے بعد ایڈجبسٹن کے شائقین نے میدان چھوڑتے ہوئے رضا اللّٰہ کو زبردست تالیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا۔
تیسرے دن کے اختتام پر پاکستان کو مجموعی طور پر 129 رنز کی برتری حاصل ہے اور اب چوتھے دن انگلینڈ کو فتح کے لیے تقریباً 130 رنز کا ہدف درکار ہوگا۔ رضا اللّٰہ نے اس سے قبل انگلینڈ کی پہلی اننگز میں بھی چار وکٹیں حاصل کی تھیں، جس میں کپتان جو روٹ کی وکٹ بھی شامل تھی جو انہوں نے اپنی بین الاقوامی کرکٹ کی محض چوتھی گیند پر حاصل کی۔
پس منظر اور بڑا رجحان
رضا اللّٰہ کا یہ ٹیسٹ ڈیبیو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے حالیہ ٹیم میں کی گئی بڑی تبدیلیوں کا حصہ ہے، جن کے تحت سات نئے کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔
مردان سے تعلق رکھنے والے رضا اللّٰہ نے پشاور ریجن کی جانب سے گھریلو کرکٹ کھیلی ہے اور اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں بلے اور گیند دونوں سے متاثر کن کارکردگی دکھا کر توجہ حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے تیز گیند بازی کے شعبے میں مستقل مزاجی کی تلاش میں تھا، اور رضا اللّٰہ کی کارکردگی نے اس خلا کو پر کرنے کی امید پیدا کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
میچ کے دوران سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے رضا اللّٰہ کی کارکردگی کو زبردست پذیرائی ملی۔ پاکستانی شائقین نے ایک نوجوان اور نسبتاً غیرمعروف کھلاڑی کی جانب سے بلے اور گیند دونوں شعبوں میں دکھائی گئی صلاحیت پر خوشی کا اظہار کیا، جبکہ انگلش شائقین اور ماہرین نے بھی اسٹیڈیم میں کھڑے ہو کر دیے گئے پرجوش استقبال کا ذکر کیا۔ کئی صارفین نے اسے پاکستان کرکٹ کے لیے ایک “نئی امید” قرار دیا۔
ماہرین کا تجزیہ
سابق انگلش کپتان ناصر حسین سمیت متعدد کرکٹ ماہرین نے رضا اللّٰہ کی رفتار اور مہارت کو سراہا، خاص طور پر پہلے دن ان کی 92 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کی گئی گیند بازی کو “غیر معمولی” قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ میچ کے دوران ان کی رفتار میں بتدریج کمی آئی، مگر بلےبازی میں ان کی جارحانہ کارکردگی نے پاکستان کو ایک اہم برتری دلائی جو چوتھے دن کے نتیجے پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اب گیند بازوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس برتری کو فتح میں تبدیل کریں۔
UrduLead UrduLead