
سری لنکا خواتین کرکٹ ٹیم نے خواتین ایشیا کپ سیمی فائنل میں پاکستان کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ یہ میچ جمعہ کے روز دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں سری لنکا نے 131 رنز کا ہدف 18.5 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے سات گیندیں باقی رہتے فتح سمیٹی۔
میچ کا احوال
ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرنے والی سری لنکن ٹیم نے پاکستان کو مقررہ 20 اوورز میں 130 رنز 5 وکٹوں کے نقصان پر محدود کر دیا۔ کپتان فاطمہ ثنا نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے 47 رنز بنائے جبکہ طوبیٰ حسن نے 12 رنز کا اضافہ کیا اور پاکستان کو ایک مناسب مجموعی اسکور تک پہنچایا۔ سری لنکن کپتان چمری اتھاپتھو نے گیند اور فیلڈنگ دونوں شعبوں میں شاندار کارکردگی دکھائی۔

131 رنز کے تعاقب میں سری لنکا کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور ٹیم ایک مرحلے پر صرف 44 رنز پر 5 کھلاڑیوں سے محروم ہو کر شدید دباؤ میں آ گئی۔ تاہم ہرشیتا سماراوکرما نے ناقابلِ شکست اننگز کھیلتے ہوئے ٹیم کو سنبھالا اور نچلے آرڈر کی مدد سے سری لنکا کو کامیابی سے ہمکنار کروایا۔ سری لنکا نے 132 رنز 6 وکٹوں کے نقصان پر بنا کر میچ اپنے نام کیا۔
اس فتح کے ساتھ سری لنکا فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ روایتی حریف بھارت سے ہوگا، جو پہلے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش کو شکست دے کر پہلے ہی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کا ٹائٹل کا سفر سیمی فائنل میں ہی اختتام پذیر ہو گیا۔
پس منظر اور بڑا رجحان
خواتین ایشیا کپ سیمی فائنل میں یہ مقابلہ خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ سری لنکا ٹورنامنٹ میں شاندار فارم میں داخل ہوئی تھی اور مسلسل دو بڑی فتوحات درج کر چکی تھی، جبکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر ایسوسی ایٹ ٹیموں کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔
دبئی کی سست پچ پر بلے بازی مشکل ثابت ہوئی، جس کی وجہ سے بولنگ نے میچ کے نتیجے پر گہرا اثر ڈالا۔ سری لنکا اس ٹورنامنٹ کی دفاعی چیمپئن ہے اور اب مسلسل دوسری بار فائنل میں پہنچ کر اپنے ٹائٹل کے دفاع کی جانب گامزن ہے، جبکہ پاکستان کو ایک بار پھر بڑے میچوں میں مستقل مزاجی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
میچ کے دوران اور بعد میں سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
سری لنکن شائقین نے ہرشیتا سماراوکرما کی جارحانہ اور دباؤ میں ٹھنڈے دماغ سے کھیلی گئی اننگز کو خوب سراہا، جبکہ پاکستانی شائقین نے ٹاپ آرڈر کی مسلسل ناکامی اور بڑے میچوں میں دباؤ برداشت نہ کرنے پر تنقید کی۔
کئی صارفین نے فاطمہ ثنا کی انفرادی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ٹیم کی مجموعی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے۔
ماہرین کا تجزیہ
کرکٹ ماہرین کے مطابق سری لنکا کی جیت میں سب سے اہم عنصر ہرشیتا سماراوکرما کی بحرانی صورتحال میں کھیلی گئی اننگز رہی، جس نے ٹیم کو 44 رنز 5 وکٹوں کی مشکل پوزیشن سے نکال کر فتح تک پہنچایا۔
ماہرین نے پاکستان کے مڈل آرڈر کی کمزوری کی بھی نشاندہی کی جو مسلسل دباؤ میں ٹوٹ جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دبئی کی سست پچ پر اسپن گیند بازی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور فائنل میں بھارت کے خلاف سری لنکا کو بھی اسی حکمتِ عملی پر انحصار کرنا ہوگا۔
UrduLead UrduLead