
حکومتِ پاکستان کی وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے جاری کردہ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
نئی قیمتیں 12 سے 14 ستمبر 2026 تک نافذ العمل رہیں گی۔ یہ مسلسل پانچواں دن ہے جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں کیا ہیں؟
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 398 روپے 04 پیسے سے بڑھ کر 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 02 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 370 روپے 80 پیسے سے بڑھ کر 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق پیٹرول ڈیزل قیمت اضافہ عالمی سطح پر پلاٹس ریٹس، پریمیمز اور دیگر اضافی اخراجات میں تبدیلی کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔
پانچ روز میں مسلسل اضافہ
گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 8 ستمبر کو پیٹرول میں 12 روپے 90 پیسے اور ڈیزل میں 3 روپے 72 پیسے، 9 ستمبر کو پیٹرول میں 5 روپے 58 پیسے اور ڈیزل میں 4 روپے 18 پیسے، 10 ستمبر کو پیٹرول میں 3 روپے 40 پیسے اور ڈیزل میں 6 روپے 72 پیسے، 11 ستمبر کو پیٹرول میں 3 روپے 05 پیسے اور ڈیزل میں 5 روپے 37 پیسے، جبکہ 12 ستمبر کو پیٹرول میں 5 روپے 02 پیسے اور ڈیزل میں 5 روپے 28 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ اس طرح تقریباً 7 ستمبر کی سطح (پیٹرول 345 روپے 87 پیسے، ڈیزل 378 روپے 05 پیسے) سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 29 روپے 95 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 25 روپے 27 پیسے کا اضافہ ہو چکا ہے۔
قیمت کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
حکام کے مطابق حکومتی محصولات، ڈیوٹیز اور ریگولیٹڈ مارجنز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اور موجودہ پیٹرول ڈیزل قیمت اضافہ بنیادی طور پر درآمدی و بین الاقوامی ایندھن لاگت کے جزو (پلاٹس سے منسلک) میں اضافے کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی ملا کر 85 روپے (پیٹرولیم لیوی 80 روپے + کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے)، کسٹمز ڈیوٹی 21 روپے 15 پیسے، او ایم سی و ڈیلر مارجن تقریباً 17 روپے 85 پیسے، اور ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن تقریباً 7 روپے 60 پیسے شامل ہیں، جبکہ باقی رقم درآمدی لاگت پر مشتمل ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی یہی لیویز اور محصولات شامل ہیں، تاہم کسٹمز ڈیوٹی 15 روپے 68 پیسے اور IFEM تقریباً 4 روپے 02 پیسے مقرر ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ آج کے نوٹیفکیشن میں کسی بھی ٹیکس یا لیوی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
عوامی ردعمل
پیٹرول ڈیزل قیمت اضافے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صارفین نے مسلسل پانچویں روز اضافے کو مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب قرار دیا اور حکومت سے قیمتوں میں استحکام لانے کا مطالبہ کیا۔
کئی صارفین نے ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔
ماہرین کا تجزیہ
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور پلاٹس ریٹس میں اضافہ مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات میں کوئی کمی نہیں کی جا رہی، اس لیے بین الاقوامی قیمتوں میں کسی بھی اتار چڑھاؤ کا براہِ راست بوجھ صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی رجحان یہی رہا تو آئندہ پندرہ روزہ نظرثانی میں بھی مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔
خلاصہ اعداد و شمار
| مصنوعات | سابقہ قیمت (11 ستمبر) | نئی قیمت (12 ستمبر) | اضافہ |
|---|---|---|---|
| پیٹرول (MS) | 370.80 روپے | 375.82 روپے | +5.02 روپے |
| ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) | 398.04 روپے | 403.32 روپے | +5.28 روپے |
| مجموعی اضافہ (تقریباً 5 دن) | پیٹرول: 345.87 روپے | پیٹرول: 375.82 روپے | +29.95 روپے |
| مجموعی اضافہ (تقریباً 5 دن) | ڈیزل: 378.05 روپے | ڈیزل: 403.32 روپے | +25.27 روپے |
| نفاذ کی تاریخ | 12 تا 14 ستمبر 2026 | — | — |
UrduLead UrduLead