
برمنگھم ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستان 133 رنز پر آؤٹ ہوگیا، جبکہ انگلینڈ نے 156 رنز بناکر 23 رنز کی برتری حاصل کرلی۔
انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ ایک بار پھر ناکام ہوگئی۔ ایجبسٹن، برمنگھم میں پہلے روز مہمان ٹیم صرف 133 رنز بناسکی۔ جواب میں انگلینڈ نے 39 اوورز میں چار وکٹوں پر 156 رنز بنائے۔ یوں میزبان ٹیم کو 23 رنز کی برتری حاصل ہوگئی۔
انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان نے اس میچ میں چار تبدیلیاں کیں۔ تین کھلاڑیوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا، لیکن بیٹنگ میں بہتری نظر نہیں آئی۔

پاکستان کے ابتدائی پانچ بلے بازوں میں کوئی بھی دہرے ہندسے تک نہ پہنچ سکا۔ ساؤد شکیل نے سب سے زیادہ 43 رنز بنائے۔ محمد عباس نے 21 اور رضااللہ نے 11 رنز بنائے۔
انگلینڈ کے جوش ٹنگ نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں۔ اولی رابنسن نے تین وکٹیں لے کر پاکستان کی مشکلات بڑھائیں۔ جوفرا آرچر نے بھی تین پاکستانی بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کی پہلی اننگز 33.5 اوورز میں مکمل ہوگئی۔ کپتان بابر اعظم بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ وہ جوش ٹنگ کی گیند پر صرف سات رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے نوجوان فاسٹ بولر رضااللہ نے متاثرکن کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے انگلینڈ کے دو اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کی دو وکٹوں نے پاکستان کو ابتدائی مرحلے میں سہارا دیا۔
انگلینڈ کی اننگز میں ایمیلیو گے نے 60 رنز بنائے۔ ہیری بروک نے 52 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ڈین لارنس پانچ رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ دونوں نے چوتھی وکٹ کے بعد اہم شراکت قائم کی۔
انگلینڈ نے 143 رنز پر چوتھی وکٹ گنوائی تھی۔ اس کے بعد بروک اور لارنس نے اننگز سنبھالی۔ اسٹمپس تک انگلینڈ نے 156 رنز مکمل کرلیے تھے۔ آخری دس اوورز میں میزبان ٹیم نے 40 رنز بنائے۔
پاکستان کے لیے یہ دورہ پہلے ہی انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے اننگز اور 103 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ لارڈز میں دوسرا ٹیسٹ انگلینڈ نے 194 رنز سے جیتا۔ اس فتح کے ساتھ میزبان ٹیم نے سیریز بھی 2-0 سے جیت لی تھی۔
لارڈز ٹیسٹ میں ساؤد شکیل نے 97 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی تھی۔ محمد عباس نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کے باوجود پاکستان انگلینڈ کے سامنے مقابلہ برقرار نہ رکھ سکا۔
تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان نے ٹیم اور انتظامیہ میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے واپس بھیجا گیا۔ سرفراز احمد کی جگہ مائیک ہیسن کو ذمہ داری دی گئی۔
تاہم برمنگھم میں پہلے روز کی صورتحال نے پاکستان کے مسائل بڑھا دیے۔ ٹیم مسلسل پانچ اننگز میں 200 رنز کا ہندسہ عبور نہیں کرسکی۔ انگلینڈ نے اس کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
دوسرے روز پاکستان کو انگلینڈ کی برتری ختم کرنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔ پاکستانی بولرز کو جلد وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی۔ دوسری طرف انگلینڈ اپنی برتری مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔ پاکستان کے لیے انگلینڈ بمقابلہ پاکستان تیسرا ٹیسٹ اب بڑے دباؤ کا امتحان بن چکا ہے۔
UrduLead UrduLead