
پنجاب، سندھ، اسلام آباد، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں انسداد پولیو مہم 21 ستمبر سے شروع ہونے جا رہی ہے۔ انسداد پولیو پروگرام کے مطابق ملک کے 115 مخصوص اضلاع میں یہ ذیلی قومی مہم 27 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
پس منظر: پولیو کے خلاف جنگ کا وسیع تر تناظر
پاکستان میں انسداد پولیو مہم کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، اور اعداد و شمار اس مہم کی کامیابی کی گواہی دیتے ہیں۔ انسداد پولیو پروگرام کے مطابق ملک میں پولیو کیسز کی تعداد میں 99 اعشاریہ 8 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ 1990ء کے اوائل میں پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد اندازاً 20 ہزار سالانہ تھی، جو 2025ء میں کم ہو کر صرف 31 اور 2026ء میں محض 3 کیسز تک محدود ہو گئی۔
اس کے علاوہ ملک بھر میں ایک اور انسداد پولیو مہم 15 دسمبر سے شروع ہوگی، جو حکومت کی مسلسل اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ حکومت نے میدان میں کام کرنے والے ورکرز کی محنت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ بھی کیا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
مہم کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے عمومی طور پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے، خصوصاً پولیو کیسز میں غیر معمولی کمی کو پاکستان کی صحتِ عامہ کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔
متعدد صارفین نے فرنٹ لائن ورکرز کے معاوضے میں اضافے کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیا، جبکہ کچھ حلقوں کی جانب سے دور دراز علاقوں میں مکمل کوریج یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
صحتِ عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پولیو کیسز کا 20 ہزار سالانہ سے کم ہو کر محض 3 تک پہنچ جانا عالمی سطح پر ایک نمایاں کامیابی ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب تک ملک مکمل طور پر پولیو فری قرار نہیں پاتا، تسلسل کے ساتھ مہمات جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
ورکرز کے معاوضے میں اضافے کو ماہرین ایک درست سمت میں قدم قرار دیتے ہیں جس سے مہم میں شمولیت اور کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
UrduLead UrduLead