
زامل کی منافقت اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آئی جب اے آر وائے ڈیجیٹل کے مقبول ڈرامہ “در نجات” کی ایک تازہ قسط میں زامل کا کردار اپنی سابقہ محبوبہ زریاب کو مذہبی بنیادوں پر شدید تنقید کا نشانہ بناتا دکھایا گیا، حالانکہ مصنفہ عمیرہ احمد کی کہانی کے مطابق دونوں کا ماضی مشترکہ طور پر جسمانی تعلق پر مبنی رہا ہے۔
ناظرین کا کہنا ہے کہ زامل خود اسی راستے سے گزر چکا ہے جس پر وہ اب زریاب کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔
پس منظر: کہانی کا تناظر
“در نجات” کی کہانی میں زمیل مذہب کی جانب زیادہ سخت رویہ اپنانے کے بعد اپنے ماضی کو بھلا کر ایک ایسی لڑکی سے شادی کی کوشش کرتا ہے جسے وہ “پاکیزہ ماضی” کی حامل سمجھتا ہے، تاہم کہانی میں یہ آئرنی بھی شامل ہے کہ حمنا کا اپنا پوشیدہ ماضی بھی موجود ہے۔ یہی دوہرا معیار — زامل کی منافقت — ڈرامے کا مرکزی نکتہ بنتا جا رہا ہے، جو معاشرے میں مرد و خواتین کے لیے الگ الگ اخلاقی پیمانوں پر گہرا طنز ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شائقین نے زامل کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ صارف Alyhassan959 نے لکھا کہ زامل اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا بوجھ زریاب پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہا، اور بالآخر ایک ایسی “پاکیزہ” لڑکی سے شادی کر کے نجات ڈھونڈنا چاہتا ہے جس کا اپنا ماضی بھی صاف نہیں۔
صارف GrimReaper5282 نے زمیل کو ان مردوں کی مثال قرار دیا جو جسمانی تجربہ تو چاہتے ہیں مگر بیوی سے بےداغ ماضی کی توقع رکھتے ہیں، اور صرف ایک توبہ سے اپنا ماضی معاف کروا لیتے ہیں۔
صارف mahin_shahzad نے طنزاً کہا کہ زامل نے شاید مذہب کی تعلیم ویڈیوز دیکھ کر حاصل کی ہے۔ ایک اور صارف atia_anishah نے سوال اٹھایا کہ ہدایت دینا اللہ کا اختیار ہے تو زمیل کس بنیاد پر یقین رکھتا ہے کہ زریاب کبھی ہدایت نہیں پائے گی، جبکہ وہ خود چند لمحے پہلے تک اسی جگہ کھڑا تھا۔
تجزیہ: دوہرے معیار کی عکاسی
ڈرامہ نگاروں اور ناظرین کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ “در نجات” جان بوجھ کر معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے ماضی کو تولنے کے مختلف پیمانوں کو بےنقاب کر رہا ہے۔
زامل کا کردار اس مخصوص ذہنیت کی نمائندگی کرتا ہے جو توبہ کو صرف اپنے لیے قابلِ قبول سمجھتی ہے مگر دوسروں، خاص طور پر خواتین، کے لیے وہی رعایت دینے سے گریزاں رہتی ہے۔
حمنا کے کردار سے جڑی آئرنی مستقبل کی قسطوں میں کہانی کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، اور ناظرین کا خیال ہے کہ یہ موضوع حقیقی زندگی کی منافقتوں کا آئینہ ہے
UrduLead UrduLead