ہفتہ , ستمبر 12 2026
بریکنگ نیوز

نیپرا پاور پلان 2025: 58 ارب ڈالر کے متنازع منصوبے کی منظوری، ارکان کے شدید تحفظات

نیپرا پاور پلان 2025 کے تحت بجلی کی ترسیل کی لائنیں اور بجلی گھر

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعے کے روز نیپرا پاور پلان 2025 یعنی انٹیگریٹڈ سسٹم پلان (آئی ایس پی) 2025 کی منظوری دے دی، جس کے تحت آئندہ 11 برسوں میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے شعبوں میں تقریباً 58 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ تاہم اتھارٹی کے تینوں ارکان، بشمول چیئرمین نیپرا، نے اس فیصلے پر 12 صفحات سے زائد پر مشتمل اختلافی اور مشاورتی نوٹ تحریر کیے۔

نیپرا کے 45 صفحات پر مشتمل مشروط فیصلے میں 2025 سے 2035 تک کے منصوبے کی منظوری دی گئی، جبکہ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) اور کے الیکٹرک کی 2028 کی ترسیلی لائن کو فی الحال اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ منظوری اتھارٹی کے مشاہدات کے ازالے سے مشروط قرار دی گئی۔

پس منظر: منصوبے پر اختلافات کیوں؟

نیپرا ارکان نے سوال اٹھایا کہ بڑے منصوبوں کے اخراج و شمولیت کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا گیا اور کیوں آئینی فورم کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کو نظرانداز کیا گیا، جو قومی توانائی پالیسی اور منصوبہ بندی کا مجاز ادارہ ہے۔

اتھارٹی نے پاور ڈویژن کی تشکیل کردہ ایک تکنیکی کمیٹی کی سفارش پر 10 سالہ سرمایہ کاری منصوبے میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی ناراضگی ظاہر کی، اور واضح کیا کہ قومی بجلی پالیسی یا منصوبے میں کوئی تبدیلی سی سی آئی سے رجوع کیے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

منصوبے میں تین طلب کے تخمینے شامل کیے گئے — بلند، درمیانی اور کم شرح نمو — جن میں سے کم شرح نمو (بزنس اے یوژول) منظر نامے کو بنیادی کیس کے طور پر اپنایا گیا۔ اس کے تحت 26,045 میگاواٹ نئی صلاحیت شامل کی جائے گی جبکہ 2,577 میگاواٹ پرانی صلاحیت ریٹائر کی جائے گی، جس سے کل نصب شدہ صلاحیت 62,657 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ اس میں 8,120 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے۔

ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کے باعث ایران سے بجلی کی درآمد متاثر ہونے کے پیش نظر، گوادر اور مکران کے علاقے کے لیے 40 میگاواٹ کا مقامی بجلی گھر تجویز کیا گیا ہے، کیونکہ وہاں قومی گرڈ کی توسیع فی الحال ممکن نہیں سمجھی جاتی۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

نیپرا پاور پلان 2025 کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور توانائی کے شعبے سے وابستہ صحافیوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر خود نیپرا کے ارکان اس منصوبے پر متفق نہیں تو عوام کو بجلی کے بلوں میں اضافے کا بوجھ کیوں اٹھانا پڑے گا۔

کچھ صارفین نے سی سی آئی کو نظرانداز کیے جانے کو صوبائی خودمختاری پر ضرب قرار دیا، جبکہ توانائی کے شعبے کے ماہرین نے بی ای ایس ایس منصوبے کے مسترد ہونے کو مستقبل کے قابل تجدید توانائی اہداف کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

ماہرین کا تجزیہ

توانائی کے امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق نیپرا کے فیصلے میں شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے توانائی شعبے میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کا فقدان بدستور برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایس ایم او اور پی پی ایم سی جیسے دو متعلقہ اداروں کے مابین متضاد مؤقف اس بات کا ثبوت ہیں کہ منصوبہ بندی کے عمل میں ڈیٹا کی درستگی اور ذمہ داری کا تعین ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک صارفین کے لیے ٹیرف میں متوقع اضافے کو مرکزی رپورٹ میں واضح طور پر شامل کرنے کی نیپرا کی ہدایت ایک مثبت قدم ہے، تاہم اصل امتحان اس منصوبے پر عملدرآمد کے دوران درپیش ہوگا۔

اہم اعداد و شمار ایک نظر میں

تفصیل مقدار
مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 58 ارب ڈالر
منصوبے کی مدت 2025 تا 2035 (11 سال)
نئی صلاحیت کا اضافہ 26,045 میگاواٹ
ریٹائر ہونے والی صلاحیت 2,577 میگاواٹ
کل نصب شدہ صلاحیت (متوقع) 62,657 میگاواٹ
پیداواری سرمایہ کاری 47.08 ارب ڈالر
ترسیلی نظام سرمایہ کاری تقریباً 10.65 ارب ڈالر
نیٹ میٹرنگ صلاحیت 8,120 میگاواٹ
متوقع ٹیرف (2035 تک) 37.28 روپے فی یونٹ
موجودہ ٹیرف (2024-25) 34 روپے فی یونٹ

About Aftab Ahmed

Check Also

خواتین ایشیا کپ سیمی فائنل میں دبئی اسٹیڈیم میں سری لنکن اور پاکستانی خواتین کرکٹرز میچ کے دوران

خواتین ایشیا کپ سیمی فائنل: سری لنکا کی پاکستان کے خلاف سنسنی خیز کامیابی، فائنل میں جگہ پکی

سری لنکا خواتین کرکٹ ٹیم نے خواتین ایشیا کپ سیمی فائنل میں پاکستان کو 4 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے