ہفتہ , ستمبر 12 2026
بریکنگ نیوز

پیٹرولیم لیوی میں کمی: حکومت کا 1500 ارب روپے کے متبادل ذرائع آمدن کا منصوبہ زیرِ غور

پیٹرولیم لیوی میں کمی سے متعلق تجویز اور پیٹرول پمپ پر ایندھن کی قیمتوں کو ظاہر کرتا ہوا بورڈ

حکومت جماعتِ اسلامی کی اس تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت پیٹرولیم لیوی میں کمی کر کے اسے بتدریج 5 سے 10 روپے فی لیٹر تک لایا جائے گا، جبکہ اس کے نتیجے میں سالانہ بجٹ میں پیدا ہونے والے تقریباً 1.45 سے 1.50 کھرب روپے کے خسارے کو نئے ٹیکسز، چھوٹ کے خاتمے، اخراجات میں کمی اور سخت ٹیکس وصولی کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے یہ تجویز وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک سمیت تمام متعلقہ اداروں کو جائزے کے لیے بھجوا دی ہے۔

پس منظر: پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی موجودہ صورتحال

دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی وصولی 1,557 ارب روپے رہی جو 1,468 ارب روپے کے ہدف سے زائد تھی، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے ہدف 1,576 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

تجویز میں کہا گیا ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی میں کمی بارہ ماہ کے دوران کر کے اسے 5 سے 10 روپے فی لیٹر کی بنیادی شرح تک لایا جائے تو باقی ماندہ آمدن صرف 96 سے 180 ارب روپے تک محدود رہ جائے گی، جس کے نتیجے میں متبادل اقدامات کے ذریعے تقریباً 1.5 سے 1.6 کھرب روپے سالانہ اکٹھے کرنا ہوں گے۔

دستاویز میں یہ اہم نکتہ بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ پی ڈی ایل غیر ٹیکس آمدن کے زمرے میں آتی ہے اور مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے، جبکہ ایف بی آر کے ذریعے جمع ہونے والے زیادہ تر ٹیکسز این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ تقسیم ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایف بی آر کو خلا پر کرنے کے لیے تقریباً 2.3 گنا زائد رقم اکٹھی کرنا ہو گی، الا یہ کہ غیر ٹیکس آلات، لیویز، سرچارجز یا این ایف سی کی سطح پر کوئی انتظام کیا جائے۔

عیش و آرام کی اشیاء اور بلند آمدن والے طبقے ہدف پر

تجویز کے مطابق عیش و آرام کی درآمدات اور اعلیٰ صارفین پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ فرسٹ اور بزنس کلاس ہوائی سفر اور لگژری گاڑیوں پر ڈیوٹی سمیت وسیع تر اقدامات سے 200 سے 280 ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔

موجودہ سپر ٹیکس، جو 10 فیصد تک نافذ ہے، تقریباً 150 سے 200 ارب روپے پیدا کرتا ہے، جبکہ بڑی 200 سے 300 کارپوریشنز اور انتہائی بلند آمدن والے افراد پر 5 سے 7.5 فیصد اضافی سرچارج سے مزید 180 سے 250 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کا بڑا بوجھ بینکنگ، تیل و گیس کی تلاش، کھاد اور سیمنٹ کے شعبوں پر پڑنے کا امکان ہے۔

ٹیکس چھوٹ، شرحِ سود اور دیگر متبادل ذرائع

تجویز میں مالی سال 2025-26 کے دوران ٹیکس چھوٹ کا مجموعی حجم تقریباً 2.35 کھرب روپے بتایا گیا ہے، جس میں 1.27 کھرب روپے سیلز ٹیکس، 580 ارب روپے انکم ٹیکس اور 500 ارب روپے کسٹمز سے متعلق چھوٹ شامل ہیں۔ خوراک، صحت، تعلیم اور دفاع سے متعلق چھوٹ کو مستثنیٰ رکھنے کے بعد قابلِ حصول رقم 1.2 سے 1.4 کھرب روپے تک ہو سکتی ہے، جس میں سے 24 ماہ میں 35 سے 50 فیصد وصولی سے 450 سے 650 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تجویز میں شرحِ سود میں کمی کو بھی مالیاتی گنجائش کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں قرضوں کی ادائیگی تقریباً 6.9 کھرب روپے رہی، جس میں 6 کھرب روپے مقامی قرضے شامل تھے۔ سود کی شرح میں 100 بیسس پوائنٹس کمی سے سالانہ 350 سے 500 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے، جبکہ 200 بیسس پوائنٹس کمی سے 700 ارب سے 1 کھرب روپے تک گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، بشرطیکہ مہنگائی اس کی اجازت دے۔

زرعی آمدن پر ٹیکس سے 12 ماہ میں 40 سے 80 ارب روپے اور 24 ماہ میں 120 سے 200 ارب روپے سالانہ حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔ اسی طرح 10 کروڑ روپے سے زائد کے دستاویزی اثاثوں پر ایک فیصد دولت ٹیکس اور بیرونِ ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس سے ابتدائی طور پر 50 سے 90 ارب روپے اور 24 ماہ میں 100 سے 160 ارب روپے سالانہ کا امکان ہے۔

کاربن لیوی کو 45 سے 90 ارب روپے تک بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ کوئلے، سیمنٹ اور صنعتی اخراج پر کاربن قیمت کے نفاذ سے مزید 80 سے 120 ارب روپے حاصل ہونے کا اندازہ ہے، یوں 24ویں ماہ تک مجموعی ممکنہ آمدن 130 سے 200 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

اے آئی کی مدد سے ٹیکس چوری کی نشاندہی، ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور جی آئی ایس/جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے جائیداد کی درست درجہ بندی جیسے اقدامات سے بھی سینکڑوں ارب روپے کی اضافی وصولی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ان تمام شعبوں میں عملدرآمد کے چیلنجز موجود ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

تجویز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

بہت سے صارفین نے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی تجویز کو عام آدمی کے لیے ریلیف قرار دیا اور اسے مہنگائی میں کمی سے جوڑا، جبکہ کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت متبادل ٹیکسز کے ذریعے واقعی اتنی بڑی رقم اکٹھی کر پائے گی۔

کئی صارفین نے ماضی میں ریٹیل سیکٹر اور زرعی آمدن ٹیکس کی ناکام دستاویزی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے تجویز کے عملی نفاذ پر شکوک کا اظہار کیا۔

ماہرین کا تجزیہ

معاشی امور کے ماہرین کے مطابق یہ تجویز نظریاتی طور پر متوازن دکھائی دیتی ہے، تاہم اس کا انحصار آئی ایم ایف کی منظوری اور صوبائی حکومتوں کے تعاون پر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی آمدن اور جائیداد پر ٹیکس آئینی طور پر صوبائی معاملات ہیں، اس لیے وفاقی حکومت کو مکمل فائدہ حاصل کرنے کے لیے این ایف سی کی سطح پر انتظام یا غیر ٹیکس آلات کا سہارا لینا پڑے گا۔ اسی طرح شرحِ سود میں کمی سے حاصل ہونے والی گنجائش کا انحصار مہنگائی کے اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کے اندر رہنے پر ہے۔

ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پی ڈی ایل کو ایک طے شدہ آمدنی کی مد سمجھا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی کمی کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات اور فنانس ایکٹ میں ساتھ ساتھ ریونیو نیوٹرل اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

ماضی کے تجربات کی روشنی میں، جیسا کہ زرعی آمدن ٹیکس کی وصولی صرف 5.6 ارب روپے رہی جبکہ اندازہ 800 ارب روپے سے زائد کا تھا، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عملی وصولی نظریاتی تخمینوں سے کہیں کم رہ سکتی ہے۔

اعداد و شمار پر ایک نظر

مجوزہ اقدام ممکنہ سالانہ آمدن (ارب روپے)
عیش و آرام کی اشیاء پر ڈیوٹی 200–280
سپر ٹیکس + اضافی سرچارج 330–450
ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ (24 ماہ) 450–650
شرحِ سود میں 200 بیسس پوائنٹس کمی 700–1,000
زرعی آمدن ٹیکس (24 ماہ) 120–200
دولت ٹیکس (24 ماہ) 100–160
کاربن لیوی (24 ماہ) 130–200
ریٹیل سیکٹر ٹیکس نیٹ (24 ماہ) 150–250
اے آئی بیسڈ ٹیکس وصولی 200–350
جی آئی ایس/جی پی ایس جائیداد ٹیکس (24 ماہ) 80–150

دستاویز کے مطابق 12 ماہ میں مجموعی مالیاتی گنجائش 1.12 سے 1.94 کھرب روپے جبکہ 24 ماہ میں 2.295 سے 3.56 کھرب روپے تک پہنچ سکتی ہے، یعنی پہلے سال میں خلا کا 75 سے 130 فیصد اور دوسرے سال میں 145 سے 225 فیصد تک احاطہ ممکن ہو گا۔

آئی ایم ایف اور صوبائی رکاوٹیں

دستاویز میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں۔ زرعی آمدن اور جائیداد پر ٹیکس صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ آئی ایم ایف کے موجودہ توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت پی ڈی ایل کو طے شدہ آمدنی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کا کوئی بھی منصوبہ آئی ایم ایف سے مذاکرات اور ریونیو نیوٹرل اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔

وزارتِ منصوبہ بندی نے واضح کیا ہے کہ یہ تجویز فی الحال جائزے اور مشاورت کے مرحلے میں ہے اور ابھی تک باقاعدہ حکومتی پالیسی کا حصہ نہیں بنی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

گوگل کا نیا موسمیاتی اے آئی ماڈل “ویدر نیکسٹ تھری” متعارف

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے موسم کی پیش گوئی کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کا نظام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے