
انگلینڈ پاکستان تیسرا ٹیسٹ برمنگھم میں اپنے اختتام کو پہنچ گیا جہاں میزبان ٹیم نے آٹھ وکٹوں کی فیصلہ کن جیت کے ساتھ سیریز میں اہم برتری حاصل کرلی۔
اسکور کارڈ کے مطابق پاکستان کی دونوں اننگز بالترتیب 133 اور 449 رنز پر تمام ہوئیں، جبکہ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 453 رنز بنانے کے بعد 130 رنز کے تعاقب میں محض دو وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا۔
پس منظر: سیریز کا وسیع تر منظرنامہ
انگلینڈ پاکستان تیسرا ٹیسٹ ایسے موقع پر کھیلا گیا جب دونوں ٹیمیں سیریز میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش میں تھیں۔
برمنگھم کی وکٹ پر پہلے دن سے ہی بلے بازوں کو مدد ملتی دکھائی دی، جس کا فائدہ میزبان کھلاڑیوں نے بھرپور انداز میں اٹھایا۔ جو روٹ کی مستقل مزاجی اور جارڈن کاکس کی جارحانہ بلے بازی نے انگلینڈ کو اننگز میں برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس میچ کی سب سے نمایاں بات جو روٹ کا وہ ریکارڈ رہا جس میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں کسی فیلڈر کی جانب سے سب سے زیادہ کیچز پکڑنے کا اعزاز حاصل کیا۔ روٹ نے یہ سنگ میل 220 کیچز مکمل کرکے حاصل کیا اور اسٹیون اسمتھ کے 219 کیچز کے سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
میچ کے اختتام کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مداحوں کی جانب سے بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کرکٹ شائقین نے جو روٹ کی فیلڈنگ کے نئے عالمی ریکارڈ کو بھرپور سراہا اور انہیں موجودہ دور کے بہترین فیلڈرز میں شمار کیا۔
دوسری جانب پاکستانی شائقین نے ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کی مسلسل ناکامی، خصوصاً پہلی اننگز میں محض 133 رنز پر آؤٹ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ متعدد صارفین نے باؤلنگ اٹیک کی مہنگی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔
ماہرین کا تجزیہ
کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق انگلینڈ پاکستان تیسرا ٹیسٹ میں شکست کی بنیادی وجہ پاکستانی ٹاپ آرڈر کی ناکامی رہی جس نے پوری اننگز پر دباؤ ڈالا۔
محمد عمران اور صائم ایوب جیسے باؤلرز کے حالیہ اسپیل، جن میں بالترتیب صفر اور صفر وکٹیں حاصل ہوئیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ باؤلنگ اٹیک وکٹ سے مطلوبہ مدد حاصل نہ کرسکا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو سیریز میں واپسی کرنی ہے تو بلے بازی اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں مستقل مزاجی درکار ہوگی۔
UrduLead UrduLead