
پی ٹی سی ایل گروپ نے 2026 کی پہلی ششماہی میں منافع حاصل کیا، تاہم انتظامی اخراجات، مالیاتی لاگت اور نقدی کے دباؤ میں اضافہ کمپنی کے لیے اہم چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 4.67 ارب روپے کا مجموعی منافع رپورٹ کیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 9.9 ارب روپے کے نقصان کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ تاہم مالی نتائج میں بڑھتے اخراجات، مالیاتی ادائیگیوں اور نقدی کے دباؤ نے کمپنی کی مالی پوزیشن کے حوالے سے کئی خدشات بھی اجاگر کیے ہیں۔
پی ٹی سی ایل گروپ کی مجموعی آمدنی رواں سال کی پہلی ششماہی میں بڑھ کر 201.67 ارب روپے ہوگئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 124.6 ارب روپے تھی۔ تاہم آمدنی میں اضافے کے ساتھ انتظامی اور عمومی اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھے۔
مالیاتی رپورٹ کے مطابق انتظامی اور عمومی اخراجات 16.74 ارب روپے سے بڑھ کر 29.81 ارب روپے ہوگئے۔ اسی طرح فروخت اور مارکیٹنگ کے اخراجات بھی 7.33 ارب روپے سے بڑھ کر 10.09 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
کمپنی نے پہلی ششماہی میں مالیاتی اخراجات اور دیگر اخراجات کی مد میں 30.49 ارب روپے رپورٹ کیے، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 25.48 ارب روپے تھی۔ مالیاتی لاگت میں اضافہ کمپنی کے منافع پر دباؤ برقرار رکھنے والے اہم عوامل میں شامل ہے۔
پی ٹی سی ایل کا آپریٹنگ منافع گزشتہ سال کے 9.83 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 32 ارب روپے ہوگیا۔ تاہم آپریٹنگ سطح پر بہتری کے باوجود مالیاتی اخراجات کے باعث قبل از ٹیکس منافع 9.43 ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ سال کمپنی کو 12.71 ارب روپے کا قبل از ٹیکس نقصان ہوا تھا۔
رپورٹ میں متوقع کریڈٹ نقصانات کی مد میں 6.89 ارب روپے کا الاؤنس بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں کمپنی نے اس مد میں معمولی ریورسل رپورٹ کیا تھا، جس سے کریڈٹ سے متعلق دباؤ میں اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
نقدی کے بہاؤ کے اعداد و شمار بھی کمپنی کے لیے ایک اہم تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ آپریٹنگ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی خالص نقدی 28.15 ارب روپے سے بڑھ کر 50.13 ارب روپے ہوگئی، تاہم مالیاتی سرگرمیوں میں 48.06 ارب روپے کی خالص نقدی استعمال ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پہلی ششماہی کے دوران نقدی اور نقدی مساوی اثاثوں میں 9.43 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ جون 2026 کے اختتام پر نقدی اور نقدی مساوی اثاثوں کی پوزیشن منفی 42.16 ارب روپے رہی، اگرچہ گزشتہ سال یہ منفی 47.25 ارب روپے تھی۔
کمپنی نے رواں عرصے کے دوران مالیاتی اخراجات کی مد میں 21.43 ارب روپے ادا کیے، جو گزشتہ سال کے 19.16 ارب روپے سے زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ لیز کے اصل زر کی مد میں 11.03 ارب روپے اور لیز کے سود کی مد میں 4.87 ارب روپے ادا کیے گئے۔
پی ٹی سی ایل کے غیر مجموعی نتائج میں بھی بہتری دیکھی گئی اور کمپنی نے 3.63 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.26 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔
کمپنی کے بورڈ نے جون 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے نقد منافع، بونس شیئرز یا رائٹ شیئرز جاری کرنے کی سفارش نہیں کی۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ منافع کی بحالی کے باوجود کمپنی اپنی مالی ضروریات اور نقدی کے انتظام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
مالی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی سی ایل نے آمدنی اور آپریٹنگ کارکردگی میں بہتری حاصل کی ہے، تاہم بڑھتے اخراجات، مالیاتی بوجھ اور نقدی کی کمزور پوزیشن اہم خطرات ہیں۔ کمپنی کے لیے مستقبل میں اخراجات پر قابو پانا، نقدی پیدا کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا اور مالیاتی ذمہ داریوں کا مؤثر انتظام منافع کی پائیداری کے لیے اہم ہوگا۔
UrduLead UrduLead