لاہور میں 11 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا، کراچی کے ایتھلیٹس نے اہم سائیکلنگ مقابلوں میں برتری حاصل کی، پاکستان کی سب سے بڑی عوامی اسپورٹس تقریب قرار دی گئی

لاہور میں منعقد ہونے والی CM پنجاب نیشنل میراتھون اینڈ سائیکلنگ ریس 2026 نے ملک کی تاریخ میں سب سے بڑی عوامی اسپورٹس تقریب کا ریکارڈ قائم کیا۔ حکام کے مطابق اس ایونٹ میں 11 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ یہ تقریب پنجاب کی وزیر اعلیٰ Maryam Nawaz Sharif کے ویژن کے تحت منعقد کی گئی۔
ریس کا آغاز صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے گلبرگ کے لبرٹی چوک سے ہوا۔ بڑی تعداد میں شہری، خاندان اور کھلاڑی وقت سے پہلے ہی جمع ہو گئے۔ تقریب کا افتتاح صوبائی وزیر کھیل Faisal Ayub Khokhar نے سائیکل چلا کر کیا۔ منتظمین نے اسے قومی سطح کی شمولیتی اسپورٹس سرگرمی قرار دیا۔
ایونٹ میں مختلف کیٹیگریز شامل تھیں۔ ان میں 21 کلومیٹر مردوں کی سائیکلنگ اور میراتھون شامل تھی۔ 5 کلومیٹر خواتین کی دوڑ بھی منعقد کی گئی۔ 2 کلومیٹر فیملی فن ریس نے عام شہریوں کو حصہ لینے کا موقع دیا۔ ایک کلومیٹر ویل چیئر ریس بھی شامل کی گئی۔

حکام کے مطابق اس ایونٹ کا مقصد صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا تھا۔ نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا بھی اہم ہدف تھا۔ لاہور اور دیگر شہروں سے ہزاروں افراد نے بھرپور شرکت کی۔ مختلف صوبوں کے ایتھلیٹس نے بھی مقابلوں میں حصہ لیا۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے ٹریفک کے لیے خصوصی پلان نافذ کیا۔ اہم شاہراہوں پر راستے تبدیل کیے گئے۔ شہریوں کو متبادل روٹس اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ایمرجنسی میڈیکل ٹیمیں بھی موقع پر موجود رہیں۔
21 کلومیٹر مردوں کی سائیکلنگ ریس میں کراچی کے کھلاڑیوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ علی الیاس نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ لاہور کے عاقب شاہ دوسرے نمبر پر رہے۔ خیبر پختونخوا کے ثناء اللہ تیسرے نمبر پر آئے۔
5 کلومیٹر خواتین کی سائیکلنگ ریس میں بھی کراچی کی کھلاڑیوں نے مکمل برتری حاصل کی۔ زینب نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انیسہ دوسرے نمبر پر رہیں۔ رابعی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کارکردگی نے کراچی کی مضبوط شرکت کو نمایاں کیا۔

ہزاروں عام شہریوں نے بھی ریس میں حصہ لیا۔ فیملیز نے فن ریس میں بھرپور جوش و خروش دکھایا۔ بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ ویل چیئر ریس میں خصوصی افراد کی شرکت نمایاں رہی۔ اس سے ایونٹ کو زیادہ جامع بنانے کی کوشش نظر آئی۔
حکام نے کہا کہ ایسے ایونٹس مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔ مقصد ملک بھر کے ایتھلیٹس کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ اس سے قومی سطح پر کھیلوں کا معیار بہتر ہوگا۔ مختلف علاقوں کے کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ بھی بڑھے گا۔
پاکستان میں عوامی اسپورٹس ایونٹس کی تعداد حالیہ برسوں میں بڑھی ہے۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 31 فیصد بالغ افراد ناکافی جسمانی سرگرمی رکھتے ہیں۔
پاکستان میں بھی ماہرین کم سرگرمی کو صحت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہیں۔ شہری آبادی میں یہ شرح مزید زیادہ بتائی جاتی ہے [verify]۔ اس سے موٹاپے اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھتے ہیں۔
ایسے بڑے ایونٹس کھیلوں کی ثقافت کو فروغ دیتے ہیں۔ لاہور پہلے بھی بڑے اسپورٹس ایونٹس کی میزبانی کر چکا ہے۔ شہر کو اسپورٹس سرگرمیوں کا مرکزی مقام سمجھا جاتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے یہاں بڑے مقابلے آسانی سے منعقد ہوتے ہیں۔
ویل چیئر ریس کی شمولیت کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس سے خصوصی افراد کی شرکت کو فروغ ملا۔ پاکستان میں معذور افراد کے کھیلوں کے مواقع اب بھی محدود ہیں۔ تاہم آگاہی بڑھ رہی ہے اور حکومتی سطح پر اقدامات جاری ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ایونٹ بغیر کسی بڑے واقعے کے مکمل ہوا۔ ٹریفک معمول پر آتے ہی بحال کر دی گئی۔ معمولی طبی مسائل کو موقع پر ہی حل کیا گیا۔ منتظمین نے اداروں کے تعاون کو سراہا۔
حکام نے کہا کہ آئندہ ایونٹس کو مزید وسعت دی جائے گی۔ غیر ملکی ایتھلیٹس کو بھی شامل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ اس سے پاکستان میں اسپورٹس ٹورازم کو فروغ ملے گا۔ لاہور کو علاقائی اسپورٹس حب بنانے کا ہدف بھی زیر غور ہے۔
CM پنجاب نیشنل میراتھون 2026 کو ایک تاریخی عوامی ایونٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ایونٹ پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کی نئی سمت ظاہر کرتا ہے۔ CM پنجاب نیشنل میراتھون 2026 مستقبل میں بھی بڑے اسپورٹس کلچر کی بنیاد بن سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead