جمعہ , جولائی 31 2026

مہنگائی 10 فیصد تک رہنے کا خدشہ

وزارت خزانہ نے نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز پر مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے جولائی 2026 میں صارف قیمتوں کے اشاریے (CPI) کی شرح 9 سے 10 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک جولائی 2026 میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی کشیدگی مہنگائی اور بیرونی شعبے کے لیے منفی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق عالمی توانائی کی قیمتوں میں معمول پر آنے کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار اور دیرپا امن معاہدے پر ہے۔ خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کی صورت میں عالمی توانائی کی قیمتیں، تجارت اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان کی معیشت کے لیے خطرات بڑھا سکتا ہے۔

رپورٹ میں تاہم کہا گیا ہے کہ حکومتی اقدامات، برآمدات میں سہولت کاری اور ترسیلات زر میں مضبوط رفتار کے باعث پاکستان کا بیرونی شعبہ مجموعی طور پر لچکدار رہنے کی توقع ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان میں معاشی استحکام بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا اور موجودہ مالی سال میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا عمل جاری رہنے کی توقع ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں بہتر معاشی بنیادیں، مینوفیکچرنگ شعبے میں مسلسل توسیع، مالیاتی استحکام، زرعی شعبے کی لچک اور مستحکم مالیاتی ماحول شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ سرگرمیاں بھی مثبت سمت میں رہنے کا امکان ہے، جسے توانائی کی مستحکم دستیابی، مالیاتی حالات میں بہتری، ملکی طلب میں اضافے اور برآمدات پر مبنی پیداوار سے مدد ملے گی۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی مقررہ ہدف کے اندر رہی، تاہم عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود مہنگائی کے دباؤ کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بحالی ہوئی جبکہ موسمی مشکلات کے باوجود زراعت نے معتدل شرح سے ترقی کی۔ محصولات میں بہتری اور اخراجات کے محتاط انتظام سے مالیاتی پوزیشن بھی مضبوط ہوئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی شعبہ بھی مجموعی طور پر متوازن رہا اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ صرف 14 کروڑ ڈالر رہا۔ ریکارڈ ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے نے ملکی معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث بڑھنے والی درآمدات کے اثرات کو متوازن رکھنے میں مدد دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 20.6 فیصد زیادہ ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ اعداد و شمار ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق S&P Global Ratings نے حال ہی میں پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کر دی، جسے ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری، اصلاحات پر عملدرآمد، مالیاتی کارکردگی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافے کا عکاس قرار دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے مالی سال 2027 میں حقیقی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ حکومت مالیاتی منڈیوں کو مزید گہرا کرنے، ملکی سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے، قرضوں کی پائیداری بہتر بنانے اور عالمی کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی مضبوط کرنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں 38,410 پاکستانی کارکنوں کو بیرون ملک روزگار کے لیے رجسٹر کیا گیا، جو عالمی لیبر مارکیٹ میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے مسلسل مواقع کی نشاندہی کرتا ہے۔

وزارت خزانہ نے خبردار کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی کی صورت میں عالمی توانائی کی قیمتوں، تجارت اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تاہم وزارت کے مطابق مضبوط معاشی بنیادیں، بہتر بیرونی مالیاتی بفرز، حکومتی تیاری اور پالیسیوں میں مسلسل احتیاط نے پاکستان کی معیشت کی ایسے بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

موسلادھار بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی

جنوب میں شدید گرمی برقرار محکمہ موسمیات نے آئندہ تین روز کے دوران ملک کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے