
برسوں سے چلا آ رہا ایف بی آر ریفنڈ تاخیر کا مسئلہ ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 28 اگست 2026 کو ایک نیا حکم نامہ جاری کیا، جس میں ملک بھر کی فیلڈ فارمیشنز کو FASTER سسٹم میں موخر (deferred) پڑے سیلز ٹیکس ریفنڈ دعووں کے بڑھتے ہوئے بیک لاگ کو ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سرکاری مراسلے کے مطابق، بارہ ویلیڈیشن چیکس مکمل ہونے کے بعد FASTER کی جانب سے موخر کیے گئے “کثیر تعداد” میں ریفنڈ دعوے فیلڈ آفس کی سطح پر پھنسے رہتے ہیں — ایک ایسا تاخیری مسئلہ جس کا خود ایف بی آر نے اعتراف کیا ہے کہ اس سے “ٹیکس دہندگان/ریفنڈ دعویداروں کی جانب سے تشویش” پیدا ہو رہی ہے۔
پس منظر: ایک مسئلہ جو بار بار دہرایا جا رہا ہے
ایف بی آر ریفنڈ تاخیر کا مسئلہ پہلی بار سامنے نہیں آیا۔ FASTER — یعنی Fully Automated Sales Tax e-Refund سسٹم — 2019 میں ایک بڑے وعدے کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا: دعویٰ جمع کرانے کے 72 گھنٹوں کے اندر برآمد کنندگان کے اکاؤنٹس میں ریفنڈ منتقل کر دیا جائے گا۔
سات سال بعد، وہی وعدہ اب ایک بارہ مرحلوں پر مشتمل پیچیدہ بیوروکریٹک عمل میں تبدیل ہو چکا ہے — جس میں اطلاعی نوٹسز، اعتراضی میمو، دو مراحل کی یاد دہانیاں، شوکاز کارروائی، STARR تصدیق، پروسیسنگ اور آخر میں ریفنڈ پیمنٹ آرڈر (RPO) کا اجرا شامل ہے۔ نئے “تیز” ٹائم لائن کے تحت بھی، یہ عمل قانونی طور پر دو ماہ سے زائد عرصے تک طول پکڑ سکتا ہے، اس سے پہلے کہ دعویدار کو ایک روپیہ بھی ملے۔
تجارتی تنظیمیں اس ایف بی آر ریفنڈ تاخیر کے رجحان کی بارہا نشاندہی کر چکی ہیں۔ برآمد کنندگان پہلے بھی شکایت کر چکے ہیں کہ انہیں یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ ان کے دعوے موخر کیوں کیے گئے، جبکہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے دعووں کی ایک بڑی تعداد منجمد رہی۔
وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) نے علیحدہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ FASTER ریفنڈ نظام کی خرابیوں نے برآمد کنندگان کو اربوں روپے کے جائز ریفنڈز سے محروم رکھا، اور ایک موقع پر یہ قرار دیا کہ ایف بی آر کا اپنے ہی ناقص نظام کا اعتراف کرنے کے باوجود نظرثانی شدہ ریٹرن جمع کرانے سے انکار کرنا بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (PTBA) نے حالیہ عرصے میں انکم ٹیکس ریٹرن اور چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم سمیت نئے تعمیلی فریم ورکس پر ایف بی آر پر تنقید کی ہے، جسے ٹیکس پیشہ ور افراد سے مناسب مشاورت کے بغیر نافذ کیا گیا، اور خبردار کیا کہ ناکافی مشاورت سنگین تعمیلی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے بھی ایف بی آر کو ایک “فیس لیس” ریفنڈ نظام متعارف کرانے کی سفارش کی، جب ایک ریفنڈ کیس قانونی مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک رکنے پر اسے محکمانہ غفلت قرار دیا گیا۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
پاکستان کے ٹیکس اور تجارتی حلقوں میں ردعمل ایک جانی پہچانی مایوسی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ تجارتی تنظیمیں اور ٹیکس ماہرین طویل عرصے سے میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ رکے ہوئے ریفنڈز کی وجہ سے ان کا کیش فلو بند ہو گیا ہے، اور برآمد کنندگان کی تنظیمیں اس صورتحال کو چھوٹی و درمیانی برآمدی صنعتوں کے لیے “مالی جمود” قرار دے چکی ہیں۔
حکم نامے پر کاروباری تبصروں میں بھی وہی شکوک و شبہات نمایاں ہیں — ایف بی آر کی جانب سے بیک لاگ تسلیم کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ FASTER کو 72 گھنٹوں میں حل کے طور پر متعارف کرائے جانے کے سات سال بعد اب “مرحلہ وار ٹائم لائن” کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
عمومی تاثر، جو تجارتی تنظیموں کے بیانات اور کاروباری میڈیا کے تبصروں میں مسلسل جھلکتا ہے، یہ ہے کہ ایف بی آر ایک ساختی خرابی کو ایک بار پھر کاغذی مسئلہ سمجھ کر نمٹ رہا ہے — یعنی اصل ویلیڈیشن نظام کو درست کرنے کے بجائے صرف سرکلر جاری کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا تجزیہ: ناقدین اسے عارضی حل کیوں کہہ رہے ہیں
ٹیکس ماہرین کے مطابق نیا SOP ایف بی آر ریفنڈ تاخیر کی اصل جڑ کو نہیں چھوتا — یعنی FASTER سسٹم کا اپنا وہ میکانزم جو “بارہ ویلیڈیشن چیکس/سائیکلز” کے بعد دعوے کو خودکار طور پر موخر کر دیتا ہے، جس کی وضاحت ایف بی آر نے آج تک ٹیکس دہندگان کو مکمل طور پر نہیں دی۔ تجزیہ کار تین بنیادی کمزوریاں نشاندہی کرتے ہیں:
- FASTER سسٹم کی اپنی جوابدہی کا فقدان: نیا ٹائم لائن ٹیکس دہندگان اور فیلڈ افسران کو سخت وقتی پابندیوں کا پابند بناتا ہے، مگر خود نظام پر یہ ذمہ داری عائد نہیں کرتا کہ وہ یہ واضح کرے کہ دعویٰ آخر موخر کیوں کیا گیا — جو برآمد کنندگان کی ایک دیرینہ شکایت رہی ہے۔
- مجموعی تاخیر بدستور خاصی طویل: بارہ مراحل کو یکجا کر کے دیکھا جائے — سات دن کے ابتدائی اطلاعی مراحل سے لے کر جائزے کے بعد منظوری کے لیے سات دن تک — تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مکمل تعمیل کرنے والے دعویدار کو بھی RPO کے اجرا سے پہلے قانونی طور پر تقریباً دو ماہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے، اور یہ حساب شوکاز کارروائی کو شامل کیے بغیر ہے۔
- استثنیات نظام کے دائرہ کار کو کمزور کرتی ہیں: یہ ٹائم لائن واضح طور پر ایکسیس کیری فارورڈ رقوم اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 8B کے تحت ان پٹ ٹیکس کیری فارورڈ سے متعلق دعووں کو مستثنیٰ قرار دیتی ہے — صنعتی ذرائع کے مطابق یہ وہ زمرے ہیں جو موجودہ پھنسے ہوئے دعووں کا ایک نمایاں حصہ ہیں۔
چونکہ وفاقی ٹیکس محتسب پہلے ہی یہ نتیجہ دے چکا ہے کہ FASTER کی خرابیوں نے برآمد کنندگان کو اربوں روپے کے تاخیر شدہ ریفنڈز کا نقصان پہنچایا، ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک مرحلہ وار ٹائم لائن صرف علامت — یعنی فیلڈ آفس کی سطح پر التوا — کا علاج کرتی ہے، جبکہ اصل بیماری یعنی ایک غیر شفاف خودکار نظام، جس پر ٹیکس دہندہ فوری طور پر سوال یا اپیل نہیں کر سکتا، جوں کی توں برقرار ہے۔
UrduLead UrduLead