Related Articles

پاکستان میں محکمہ موسمیات کی جانب سے بدھ کی رات سے 16 ستمبر تک کے لیے شہری سیلاب وارننگ جاری کر دی گئی ہے، اور اس وقت راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
محکمے کے مطابق جنوب مشرقی سندھ کے نشیبی علاقوں تھرپارکر، نگرپارکر، اسلام کوٹ، مٹھی، عمرکوٹ، ٹھٹھہ اور بدین کے علاوہ اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، سوابی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور لاہور میں شہری سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ محکمے نے دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، مالاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، گلگت بلتستان، کشمیر، مری، گلیات، اسلام آباد اور راولپنڈی کے پہاڑی نالوں میں فلیش فلڈ کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے۔
پس منظر: موسمیاتی صورتحال اور بڑھتا ہوا رجحان
محکمہ موسمیات کے سائنوپٹک تجزیے کے مطابق جنوب مشرقی راجستھان اور شمالی گجرات کے نواحی علاقوں پر ایک لو پریشر ایریا موجود ہے، جس کے اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں مزید مغرب-جنوب مغرب کی جانب بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ویسٹرلی ویو بھی ملک کے بالائی اور وسطی حصوں کو متاثر کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں شہری سیلاب وارننگ کا اجراء اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مون سون کے بعد کی بارشیں بھی شہری انفراسٹرکچر کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہیں، خصوصاً ان شہروں میں جہاں نکاسی آب کا نظام کمزور ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں جاری بارش اس خطرے کی تازہ ترین مثال ہے۔
بدھ کے روز ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں جزوی ابر آلود موسم رہنے کی توقع ہے، جبکہ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر، بالائی پنجاب، اسلام آباد اور جنوب مشرقی سندھ میں بارش، ہوا اور جھکڑ کا امکان ہے۔ کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، جنوب مشرقی سندھ اور پوٹھوہار کے علاقوں میں موسلادھار بارش، تیز آندھی اور اولے پڑنے کا بھی خدشہ ہے۔
پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور حبس زدہ رہا، تاہم زیریں سندھ، بالائی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے چند مقامات پر بارش اور آندھی ریکارڈ کی گئی۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
شہری سیلاب وارننگ جاری ہوتے ہی اور راولپنڈی اسلام آباد میں بارش شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے فکرمندی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر صارفین نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی نکاسی آب کی ناقص صورتحال پر سوالات اٹھائے اور انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
کئی صارفین نے تھرپارکر اور عمرکوٹ جیسے کم ترقی یافتہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کی تیاری پر بھی زور دیا۔ کچھ صارفین نے پہاڑی علاقوں مری، گلیات اور کشمیر میں سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
ماہرین کا تجزیہ
موسمیاتی ماہرین کے مطابق موجودہ لو پریشر سسٹم اور ویسٹرلی ویو کا امتزاج شہری علاقوں میں اچانک اور شدید بارشوں کا باعث بن سکتا ہے، جس سے نشیبی بستیوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں جاری بارش کو ماہرین اسی سسٹم کا ابتدائی اثر قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین نے کمزور تعمیرات، سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو تیز ہواؤں اور طوفان سے محفوظ رکھنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کرنے کی تجویز دی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر مقامی انتظامیہ کو متبادل راستوں کی نشاندہی اور نگرانی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
UrduLead UrduLead