پیر , ستمبر 14 2026
بریکنگ نیوز

ہیموگلوبن بلڈ ٹیسٹ: نارمل رینج، کم یا زیادہ ہونے کی وجوہات اور علامات کیا ہیں؟

لیبارٹری میں ہیموگلوبن بلڈ ٹیسٹ کے لیے خون کا نمونہ لیا جا رہا ہے

طبی ماہرین کے مطابق ہیموگلوبن بلڈ ٹیسٹ خون میں آکسیجن پہنچانے کی صلاحیت جانچنے کا ایک بنیادی اور انتہائی اہم ٹیسٹ ہے، جو عام طور پر مکمل خون کے تجزیے (سی بی سی) کے حصے کے طور پر کیا جاتا ہے۔

عالمی طبی اداروں کی رہنمائی کے مطابق یہ ٹیسٹ اس وقت تجویز کیا جاتا ہے جب مریض کو تھکاوٹ، کمزوری، غیر واضح وزن میں کمی، یا خون بہنے کی علامات محسوس ہوں، اور اسی طرح حمل، سرجری سے پہلے یا بعد، اور گردوں کے دائمی امراض میں بھی یہ معمول کے مطابق کروایا جاتا ہے۔

ہیموگلوبن کیا ہے اور یہ ٹیسٹ کیوں ضروری ہے؟

ہیموگلوبن دراصل سرخ خون کے خلیوں میں پایا جانے والا ایک پروٹین ہے جو پھیپھڑوں سے آکسیجن جسم کے تمام حصوں تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ ہیموگلوبن بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے ڈاکٹر یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ آیا جسم میں آکسیجن کی ترسیل معمول کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں۔

عمومی طور پر بالغ مردوں میں نارمل سطح 13.5 سے 17.5 گرام فی ڈیسی لیٹر جبکہ خواتین میں 12 سے 15.5 گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہوتی ہے، تاہم مختلف لیبارٹریز کے معیار میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔ بچوں اور نوزائیدہ بچوں میں یہ رینج عمر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔

اگر نتیجہ نارمل رینج سے تھوڑا سا اوپر یا نیچے ہو تو یہ ہمیشہ کسی سنگین بیماری کی علامت نہیں ہوتا، کیونکہ پانی کی کمی، حالیہ ورزش، یا حمل جیسے عارضی عوامل بھی نتیجے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر اکثر ٹیسٹ دوبارہ کروانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

کم اور زیادہ ہیموگلوبن کی علامات

کم ہیموگلوبن، جسے طبی زبان میں انیمیا کہا جاتا ہے، کی صورت میں مریض کو مستقل تھکاوٹ، جلد کا پیلا پن، سانس پھولنا، چکر آنا، ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا رہنا، اور دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔ آہستہ آہستہ کم ہونے والا ہیموگلوبن ابتدا میں ہلکی علامات ظاہر کرتا ہے، جبکہ اچانک خون کے ضیاع کی صورت میں علامات زیادہ شدید اور فوری ہو سکتی ہیں۔

دوسری طرف زیادہ ہیموگلوبن کی صورت میں سر درد، چکر آنا، جلد کا سرخ ہونا، دھندلا نظر آنا، اور نہانے کے بعد جسم میں خارش جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ بعض اوقات زیادہ ہیموگلوبن کوئی واضح علامت ظاہر نہیں کرتا اور یہ محض معمول کے ٹیسٹ کے دوران دریافت ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر آگاہی

سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق آگاہی مہمات میں ہیموگلوبن بلڈ ٹیسٹ اور خون کی کمی (انیمیا) کا موضوع اکثر زیرِ بحث رہتا ہے، خاص طور پر خواتین اور بچوں میں آئرن کی کمی کے حوالے سے۔ صحت سے آگاہ صارفین اکثر یہ مشورہ شیئر کرتے ہیں کہ سالانہ بنیادوں پر خون کا معمول کا ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ ابتدائی مرحلے میں ہی کسی بھی کمی یا مسئلے کی نشاندہی ہو سکے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

طبی ماہرین کے مطابق کم ہیموگلوبن کی سب سے عام وجوہات میں آئرن، وٹامن بی 12 یا فولک ایسڈ کی کمی، بھاری ماہواری، معدے یا آنتوں سے خون کا اخراج، اور گردوں کے دائمی امراض شامل ہیں۔

اس کے برعکس زیادہ ہیموگلوبن کی وجوہات میں پانی کی کمی، بلند مقامات پر رہائش، تمباکو نوشی، پھیپھڑوں یا دل کے امراض، اور نایاب بیماری پولی سائتھیمیا ویرا شامل ہو سکتی ہے، جس میں ہڈیوں کا گودا ضرورت سے زیادہ سرخ خلیات بنانے لگتا ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہیموگلوبن بلڈ ٹیسٹ کا نتیجہ ہمیشہ مریض کی طبی تاریخ اور دیگر ٹیسٹوں کے ساتھ ملا کر ہی درست تشخیص کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، اور خود تشخیص یا خود علاج سے گریز کرنا چاہیے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ رینکنگ میں تنزلی کے بعد قومی ٹیم کے کھلاڑی میدان میں

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ رینکنگ میں تاریخ کی بدترین پوزیشن پر، قومی ٹیم پہلی بار نویں نمبر پر تنزلی کا شکار

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ رینکنگ میں تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ گیا ہے، اور قومی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے