
رواں مالی سال 2026-27 کا دوسرا مانیٹری پالیسی اجلاس آج اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ہو رہا ہے، جس میں پالیسی ریٹ فیصلہ کیا جائے گا۔
مرکزی بینک کا موجودہ پالیسی ریٹ 11.50 فیصد ہے، جو گزشتہ دو اجلاسوں سے تبدیل نہیں ہوا۔ مالیاتی شعبے کی اکثریت کا اندازہ ہے کہ آج کا پالیسی ریٹ فیصلہ بھی شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی صورت میں سامنے آئے گا، تاہم بعض ماہرین 50 بیسز پوائنٹس اضافے کا امکان بھی ظاہر کر رہے ہیں۔
پس منظر: مہنگائی میں اضافہ مگر بیرونی کھاتہ مستحکم
زری پالیسی کمیٹی نے 27 اپریل 2026 کو پالیسی ریٹ میں 100 بیسز پوائنٹس اضافہ کر کے اسے 11.50 فیصد کیا تھا، اور اس کے بعد سے مسلسل دو اجلاسوں — 15 جون اور 27 جولائی 2026 — میں شرح کو اسی سطح پر برقرار رکھا گیا۔ اب کی بار پالیسی ریٹ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب افراطِ زر کا رجحان اوپر کی طرف ہے۔
مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں اوسط مہنگائی 10.18 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 3.56 فیصد کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔ خطے میں کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تقریباً 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے درآمدی لاگت بڑھی ہے، جس نے مہنگائی کے دباؤ کو مزید ہوا دی ہے۔
دوسری طرف بیرونی و مالیاتی محاذ پر بہتری دیکھی گئی ہے۔ جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سالانہ بنیاد پر 38 فیصد کم ہو کر 32.8 کروڑ ڈالر رہ گیا، جبکہ ترسیلاتِ زر میں 13 فیصد اضافے سے یہ 3.6 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔
مالی سال 2026 میں مجموعی طور پر پرائمری بجٹ سرپلس جی ڈی پی کا 2.9 فیصد رہا، جو آئی ایم ایف کے طے شدہ ہدف سے زیادہ ہے۔ یہی متضاد اشاریے آج کے پالیسی ریٹ فیصلہ کو مشکل بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آج کے اجلاس سے متعلق بحث جاری ہے۔ عام صارفین بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور شرح سود میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ کاروبار اور قرضوں کی لاگت کم ہو۔
دوسری جانب سرمایہ کار اور تاجر برادری کا ایک حصہ خبردار کر رہا ہے کہ اگر شرح سود بڑھائی گئی تو نجی شعبے کے قرضے مہنگے ہو جائیں گے، جس سے معاشی سرگرمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کے شرکا بھی آج کے پالیسی ریٹ فیصلہ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کا براہِ راست اثر پی ایس ایکس کے رجحان پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے: اکثریت کا جھکاؤ برقراری کی طرف
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک سروے کے مطابق 84 فیصد مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ شرح سود کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا، جبکہ 14 فیصد کا اندازہ ہے کہ اس میں 50 بیسز پوائنٹس اضافہ کیا جا سکتا ہے اور محض 2 فیصد 100 بیسز پوائنٹس اضافے کی توقع رکھتے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے سروے میں بھی 87.5 فیصد جواب دہندگان نے شرح برقرار رہنے جبکہ 12.5 فیصد نے 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیش گوئی کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں 95 ڈالر کے قریب رہیں اور خوراک کی مہنگائی قابو میں رہی تو حقیقی شرح سود کا فرق (ریئل ریٹ اسپریڈ) 250 بیسز پوائنٹس سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، جو موجودہ سطح کو برقرار رکھنے کے حق میں ایک اہم دلیل ہے۔ تاہم کچھ تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر مہنگائی کا رجحان اسی طرح تیز رہا تو اکتوبر یا دسمبر 2026 کے اجلاسوں میں 50 سے 100 بیسز پوائنٹس تک اضافہ متوقع ہو سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead