بدھ , اگست 26 2026

10 روپے کا نوٹ ختم؟ SBP کی بریفنگ پر تلخ سوالات

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس اسلام آباد میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران انکشاف ہوا کہ اسٹیٹ بینک 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اجلاس میں نئے نوٹوں کے ڈیزائن، کنسلٹنٹ کی تقرری کے طریقہ کار اور وزارتِ خزانہ کی مبینہ سست روی پر کمیٹی ارکان نے سخت سوالات بھی اٹھائے۔

بریفنگ کے اہم نکات

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ 10 روپے کا نوٹ ختم کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی لاگت بڑھ گئی ہے، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے، اور نئے کرنسی نوٹ تیار ہونے پر 10 روپے کا نوٹ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ کرنسی 2005 سے چھپنا شروع ہوئی تھی، جبکہ نئے سکیورٹی فیچرز کے ساتھ کرنسی نوٹ متعارف کرائے جانے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے اس پر واضح کیا کہ کمیٹی نے تمام کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا، صرف ایک نوٹ کا نہیں۔

حکام کے مطابق کابینہ میں یہ معاملہ دو مرتبہ زیرِ بحث آ چکا ہے اور کابینہ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے کرنسی کے ڈیزائن میں کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی اس وقت نئے کرنسی نوٹوں کا جائزہ لے رہی ہے اور تبدیلیوں کے بعد ہی نئے نوٹ مارکیٹ میں آ سکیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کرنسی ڈیزائن وزارتِ خزانہ کو بھجوائے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے شکوہ کیا کہ ایک سال سے وزارتِ خزانہ نے جواب ہی نہیں دیا۔

کنسلٹنٹ کی تقرری پر تلخ کلامی

اجلاس میں سب سے زیادہ گرما گرم بحث نئے نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنٹ کی تقرری پر ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ جس فرد کو کنسلٹنٹ رکھا گیا تھا، اسی کو ڈیزائن بنانے کا کام بھی دے دیا گیا اور کنسلٹنٹ کی کمپنی سے ہی نوٹ ڈیزائن کرنے کا معاہدہ کر لیا گیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جس کمپنی کا کنسلٹنٹ ہے، وہی کمپنی سارا کام کرے گی۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے واضح کیا کہ باقاعدہ بڈنگ کا عمل مکمل نہیں کیا گیا اور کنسلٹنٹ کے ساتھ ہی براہِ راست ڈیزائن کا معاہدہ کر لیا گیا، جو شفافیت کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک خودمختار ادارہ ضرور ہے، مگر اسے بھی قواعد و ضوابط کی پیروی کرنا ضروری ہے۔

جعلی کرنسی اور نوٹ کے ڈیزائن پر بحث

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جعلی کرنسی کی سرکولیشن کم ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے فوری طور پر مطالبہ کیا کہ اگر ایسا ہے تو اس کے تصدیق شدہ اعداد و شمار کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں۔ ڈپٹی گورنر نے یہ بھی بتایا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن میں عوامی پسندیدگی کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ اس پر سینیٹر انوشہ رحمان نے رائے دی کہ نوٹ جیسا بھی ہو، لوگوں کو پسند آ ہی جاتا ہے، جبکہ سینیٹر شاہزیب درانی کا مؤقف تھا کہ کرنسی کے معاملے میں پسند و ناپسند کوئی معنی نہیں رکھتی۔

10 روپے کے نوٹ کے خاتمے کی کوششیں کب سے جاری ہیں؟

10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی تجویز نئی نہیں۔ وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی، جو اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے قواعد کے تحت کام کر رہی ہے، پہلے ہی کرنسی مینجمنٹ سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ کابینہ کو ارسال کر چکی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی اوسط عمر محض 6 سے 9 ماہ ہے، جبکہ 10 روپے کے سکے کی اوسط عمر 20 سے 30 سال تک ہوتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں ہر سال چھپنے والے مجموعی نوٹوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ صرف 10 روپے کے نوٹ پر مشتمل ہوتا ہے، اور اس نوٹ کی چھپائی، تبدیلی اور انتظامی اخراجات کا سالانہ تخمینہ 8 سے 10 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے سے اگلے 10 سال میں کم از کم 40 سے 50 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔ خیال رہے کہ 10 روپے کا سکہ پہلی بار 24 اکتوبر 2016 کو جاری کیا گیا تھا، اور نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنا اسٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت ایک قانونی عمل تصور کیا جاتا ہے۔ ایک الگ بریفنگ میں گورنر اسٹیٹ بینک پہلے ہی سینیٹ کمیٹی کو بتا چکے ہیں کہ 10 روپے سے لے کر 5 ہزار روپے تک تمام نوٹوں کے نئے ڈیزائن تیار کر لیے گئے ہیں اور تجاویز وزارتِ خزانہ کو بھجوائی جا چکی ہیں۔

عوامی و سوشل میڈیا ردعمل

10 روپے کے نوٹ کے خاتمے کی خبر ہر بار سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے لاتی ہے۔ ماضی میں بھی جب یہ تجویز زیرِ بحث آئی تو صارفین کی بڑی تعداد نے اسے مہنگائی کے دور میں غیر ضروری اقدام قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ جب نوٹ کی قدر پہلے ہی کم ہو چکی ہے تو اسے مکمل ختم کرنے کے بجائے سکے کی صورت میں برقرار رکھنا زیادہ مناسب ہے۔ دوسری جانب کئی صارفین نے اسٹیٹ بینک کے اس مؤقف کی حمایت کی کہ نوٹ کی مختصر عمر اور بار بار چھپائی کے اخراجات کے پیشِ نظر سکہ متعارف کرانا معاشی طور پر زیادہ فائدہ مند ہے۔ سینیٹ کمیٹی میں کنسلٹنٹ کو ہی ڈیزائن کا ٹھیکہ دیے جانے اور بغیر بڈنگ کے معاہدے پر اٹھائے گئے سوالات نے بھی آن لائن حلقوں میں شفافیت سے متعلق بحث کو ہوا دی، جہاں صارفین سرکاری اداروں میں ٹھیکوں کی شفافیت پر مسلسل تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ISGS کو ریفائنری اپ گریڈ پالیسی کی ذمہ داری ؟

پیٹرولیم ڈویژن نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی برائے اپ گریڈیشن آف ایگزسٹنگ/براؤن فیلڈ ریفائنریز 2023 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے