بدھ , اگست 26 2026

حد سے زیادہ کی جانے والی شدید ورزشو ں کے نقصانات

طبی ماہرین اور فٹنس ایکسپرٹس نے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ یا غلط طریقے سے کی جانے والی شدید ترین ورزشیں فائدے کے بجائے صحت کے لیے سنگین نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق خاص طور پر وہ افراد جو طویل وقفے کے بعد اچانک سخت ورزش یا کھیل شروع کر دیتے ہیں، انہیں پٹھوں کی شدید تکلیف، تھکن اور چوٹ لگنے کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈاکٹرزکیا کہتے ہیں ؟

ڈاکٹرز کے مطابق جب انسان کافی عرصے تک جسمانی طور پر غیر فعال رہتا ہے تو اس کے جسم کی لچک، برداشت اور طاقت تینوں متاثر ہوتی ہیں، اور جسم کو دوبارہ پرانی حالت میں واپس آنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے اچانک سخت ورزش شروع کرنے سے پٹھوں میں شدید درد اور تھکن پیدا ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق 30 سال سے زیادہ عمر کے کام کرنے والے افراد میں گھٹنے کی چوٹ کے باعث ہونے والے 75 فیصد سے زائد آپریشن ایسے لوگوں کے ہوتے ہیں جو طویل وقفے کے بعد اچانک کھیل یا سخت ورزش شروع کر دیتے ہیں۔

زیادہ ورزش کے مضر اثرات

ماہرین کے مطابق حد سے زیادہ یا شدید ورزش کئی طرح سے جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ مسلسل تھکاوٹ ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جسم ضرورت سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ شدید ورزشوں میں مسلسل مشغول رہنے سے “برن آؤٹ” یعنی جسمانی تھکاوٹ کی حالت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے کارکردگی میں کمی اور مایوسی جنم لے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شدید ورزش کے دوران زیادہ پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کی علامات میں خشک منہ اور چکر آنا شامل ہیں۔ گرم موسم میں باہر شدید ورزش کرنے والے افراد کو ہائپرتھرمیا یعنی جسمانی درجہ حرارت کے خطرناک حد تک بڑھنے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے، جو دل، گردوں اور دیگر اہم اعضاء پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے اور تجاویز

فٹنس ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ ورزش کا آغاز ہمیشہ ہلکی پھلکی سرگرمیوں سے قدم بہ قدم کرنا چاہیے، اور ہر شخص کا ورزشی پروگرام اس کی عمر، جسمانی حالت اور صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق ورزش دوبارہ شروع کرتے وقت سب سے پہلے اسٹریچنگ کے ذریعے پٹھوں کی اکڑن کم کی جائے، پھر ہلکی کارڈیو ورزش سے دل و پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے، اور بنیادی وزن اٹھانے کی مشقیں بتدریج شامل کی جائیں تاکہ پٹھے، ہڈیاں اور جوڑ مضبوط ہوں۔ ورزش کے دوران جسم کی درست پوزیشن برقرار رکھنا بھی چوٹ سے بچاؤ کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین متوازن غذا، وافر مقدار میں پانی پینے اور پرسکون نیند کو بھی پٹھوں کی بحالی کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کی تاکید ہے کہ اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی بیماری، چوٹ یا طبی مسئلہ لاحق ہو تو کوئی بھی نئی یا شدید ورزش شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ ضرور کیا جائے۔

عوامی و سوشل میڈیا ردعمل

فٹنس اور صحت سے متعلق موضوعات پر عمومی طور پر سوشل میڈیا پر تسلسل کے ساتھ گفتگو ہوتی رہتی ہے، خاص طور پر جِم اور ورک آؤٹ کلچر کے فروغ کے تناظر میں۔ صارفین اکثر ذاتی تجربات، ورزش کے دوران لگنے والی چوٹوں اور بحالی کے طریقوں سے متعلق آگاہی شیئر کرتے دیکھے جاتے ہیں، جبکہ فٹنس انفلوئنسرز اور ماہرین وقتاً فوقتاً محفوظ ورزش کے طریقوں سے متعلق تنبیہات جاری کرتے رہتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ISGS کو ریفائنری اپ گریڈ پالیسی کی ذمہ داری ؟

پیٹرولیم ڈویژن نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی برائے اپ گریڈیشن آف ایگزسٹنگ/براؤن فیلڈ ریفائنریز 2023 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے