
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے 25 اگست 2026 کو جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نظرِ ثانی شدہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کی روشنی میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 26 سے 27 اگست 2026 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں پر نظرِ ثانی کی ہے۔
نئی قیمتوں کی تفصیل
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 370 روپے 69 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 371 روپے 80 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جو 1 روپے 11 پیسے کا اضافہ ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی قیمت 341 روپے 98 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 343 روپے 10 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس میں 1 روپے 12 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 26 اگست 2026 کی رات سے ہوگا۔
پس منظر: قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت 17 جولائی 2026 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کر رہی ہے، جس کا اعلان اس وقت کے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کیا تھا۔ اس نئے نظام کے تحت اوگرا روزانہ قیمتوں کا تعین کر کے اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتی ہے۔ گزشتہ ماہ کے دوران قیمتوں میں بار بار ردوبدل دیکھنے میں آیا ہے: 24 اگست کو پیٹرول 39 پیسے اور ڈیزل 2 روپے 40 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا، جس کے بعد یہی قیمتیں 25 اگست تک کے لیے برقرار رہیں اور اب انہیں دوبارہ بڑھا دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 17 سے 25 جولائی کے دوران ہی پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 24 روپے 47 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 60 روپے 16 پیسے فی لیٹر تک کا اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ درمیان میں کچھ مواقع پر معمولی کمی بھی دیکھی گئی۔ روزانہ کی بنیاد پر نظرِ ثانی کے اس نظام نے صارفین کے لیے قیمتوں پر نظر رکھنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ماہرین اور صارفین کی رائے
اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں معمولی مگر مسلسل اضافہ طویل مدت میں عوام کی قوتِ خرید پر واضح اثر ڈالتا ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی اسی مناسبت سے بڑھتی ہیں۔ صارفین کی جانب سے یہ تحفظات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے مقابلے میں مقامی سطح پر ہونے والے اضافے کا تناسب واضح طور پر بیان نہیں کیا جاتا۔
عوامی و سوشل میڈیا ردعمل
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہر نئے اضافے کے اعلان پر سوشل میڈیا پر تنقید کا ایک معمول سا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ صارفین اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے نظام سے عام آدمی کے لیے بجٹ بنانا مزید مشکل ہو گیا ہے، اور یہ کہ مسلسل چھوٹے چھوٹے اضافے بالآخر ایک بڑے بوجھ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز اور تاجر تنظیمیں بھی متعدد مواقع پر کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے جوڑتی رہی ہیں، جس پر آن لائن حلقوں میں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر گفتگو جاری رہتی ہے۔
UrduLead UrduLead