
وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس (ٹیکنیکل ونگ) کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر دفاعی رہائشی اتھارٹی (ڈی ایچ اے) راولپنڈی/اسلام آباد کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا گیا ہے جس میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کے زیرِ تعمیر “کمانرز سکائی گارڈنز پراجیکٹ” میں ڈی ایچ اے کو بطور جوائنٹ وینچر پارٹنر شمولیت اختیار کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
خط کے مطابق ایف جی ای ایچ اے فی الوقت کمانرز سکائی گارڈنز پراجیکٹ کو شیڈول کے مطابق تسلی بخش طریقے سے تکمیل کی جانب لے جا رہی ہے، تاہم وزارت کا موقف ہے کہ یہ منصوبہ مزید تعاون کے لیے ایک قیمتی موقع فراہم کرتا ہے۔ خط میں درخواست کی گئی کہ ڈی ایچ اے اسی طرز پر جوائنٹ وینچر پارٹنر بننے پر غور کرے جس طرح ڈی ایچ اے پہلے ہی لائرز سوسائٹی پراجیکٹ میں ایف جی ای ایچ اے کے ساتھ اور کری پراجیکٹ میں سی ڈی اے کے ساتھ شراکت دار ہے۔
ڈی ایچ اے کے لیے تجویز کردہ فوائد
خط میں تین بنیادی وجوہات بیان کی گئی ہیں جن کی بنا پر یہ جوائنٹ وینچر ڈی ایچ اے کے لیے خاص طور پر فائدہ مند قرار دیا گیا ہے:
- منصوبہ ڈی ایچ اے مارگلہ اور ڈی ایچ اے کری منصوبوں کے قریب اور ان سے اچھی طرح مربوط علاقے میں واقع ہے، جو اسے ڈی ایچ اے کی موجودہ ترقیاتی سکیموں کی قدرتی توسیع بناتا ہے۔
- منصوبہ آئندہ رنگ روڈ کے راستے پر مثالی طور پر واقع ہے، جبکہ فی الوقت مری ایکسپریس وے سے رسائی حاصل ہے، جو طویل المدتی رابطے اور قدر کے اعتبار سے فائدہ مند ہے۔
- زمین مکمل طور پر واضح اور قبضے میں ہے، کسی بھی تنازع یا رکاوٹ سے پاک، اور ترقیاتی کام پہلے ہی زوروں پر جاری ہے — ایسی صورتحال جس کی متعلقہ حکام سے معائنے اور تصدیق کے ذریعے آزادانہ تصدیق کی جا سکتی ہے۔
پس منظر
کمانرز سکائی گارڈنز (گرین انکلیو-II) دراصل ایف جی ای ایچ اے اور میسرز کمانرز سکائی گارڈن کے مابین ایک فلیگ شپ جوائنٹ وینچر ہے جس پر 11 اکتوبر 2019 کو معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ منصوبہ مری کے قریب موضع کھٹر و مینگل میں تقریباً 11 ہزار کنال اراضی پر محیط ہے، جس میں سے 7200 کنال ایف جی ای ایچ اے کو منتقل کی جا چکی ہے۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر 2009 کی ممبرشپ ڈرائیو کے تحت رجسٹرڈ وفاقی ملازمین کے لیے ہے۔ رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی تقسیم بالترتیب 70:30 اور 45:55 کے تناسب سے ایف جی ای ایچ اے اور جوائنٹ وینچر پارٹنر کے مابین کی گئی ہے۔ منصوبے کو ماضی میں نیب انکوائریوں اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمات کے باعث تاخیر کا سامنا رہا، تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد اب اس پر کام دوبارہ رفتار پکڑ چکا ہے۔
سوشل میڈیا و حلقوں کا ردعمل
ہاؤسنگ سیکٹر میں دلچسپی رکھنے والے حلقوں اور آن لائن فورمز پر اس خط کے منظرِ عام پر آنے کے بعد تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ کئی صارفین اسے دفاعی اداروں کی ہاؤسنگ سکیموں کے دائرہ کار میں مزید توسیع کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ اگر یہ جوائنٹ وینچر حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ منصوبہ سرمایہ کاروں اور ممکنہ الاٹیوں کے لیے مزید اعتماد کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اس کی مری ایکسپریس وے اور مجوزہ رنگ روڈ سے قربت کے پیشِ نظر۔
ماہرین کی رائے
ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ ماہرین کے مطابق سرکاری ہاؤسنگ اتھارٹیز کے مابین اس نوعیت کے جوائنٹ وینچرز عموماً وسائل، تجربے اور سیکیورٹی کے معیار کو یکجا کر کے منصوبوں کی رفتار اور اعتبار میں اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حتمی معاہدے سے قبل زمین کی ملکیت، حصص کے تناسب اور قانونی امور کا مکمل جائزہ ضروری ہوگا، جیسا کہ لائرز سوسائٹی اور کری منصوبوں میں پہلے سے رائج ماڈل میں کیا گیا۔
خلاصہ
| تفصیل | معلومات |
|---|---|
| خط جاری کنندہ | وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس (ٹیکنیکل ونگ) |
| موصول کنندہ | ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے، راولپنڈی/اسلام آباد |
| تاریخ | 19 اگست 2026 |
| موضوع | کمانرز سکائی گارڈنز منصوبے میں ڈی ایچ اے کی بطور جوائنٹ وینچر پارٹنر شمولیت کی درخواست |
| مثالی نمونہ | ڈی ایچ اے-ایف جی ای ایچ اے (لائرز سوسائٹی)، ڈی ایچ اے-سی ڈی اے (کری پراجیکٹ) |
| منصوبے کا رقبہ | تقریباً 11,000 کنال (مری ایکسپریس وے کے قریب) |
UrduLead UrduLead