ہفتہ , اگست 22 2026

نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف CDA کا سخت اقدام

وفاقی دارالحکومت میں نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے حوالے سے سی ڈی اے نے انکشاف کیا ہے کہ بعض ڈویلپرز اور ہاؤسنگ اسکیموں کے اسپانسرز عوام کو منصوبوں کی منظوری کی حیثیت کے بارے میں گمراہ کر رہے ہیں۔ بعض منصوبے منظور شدہ لے آؤٹ پلان ظاہر نہیں کرتے، جبکہ کہیں خریداروں کو پرانے یا غیر منظور شدہ نقشے دکھائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

20 اگست 2026 کو جاری کیے گئے خط میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے پلاننگ ونگ نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں نجی ہاؤسنگ اسکیموں اور منصوبوں کے تمام اسپانسرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی اسکیموں کی منظور شدہ حیثیت واضح طور پر عوام کے سامنے رکھیں۔

سی ڈی اے کے مطابق اس معاملے کی نشاندہی قومی احتساب بیورو (نیب) کے اسلام آباد/راولپنڈی ریجنل بیورو نے 11 مئی 2026 کو ایک خط کے ذریعے کی تھی۔ نیب نے ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری سے متعلق عوام کو گمراہ کیے جانے اور اس کے نتیجے میں مالی نقصان کا معاملہ سی ڈی اے کے سامنے اٹھایا تھا۔

منظور شدہ نقشہ ویب سائٹ اور دفاتر میں آویزاں کرنے کا حکم

سی ڈی اے نے ہاؤسنگ اسکیموں کے اسپانسرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی سرکاری ویب سائٹس پر سی ڈی اے سے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اپ لوڈ کریں اور اسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ بھی کریں۔

اس کے علاوہ ہر ہاؤسنگ اسکیم کے استقبالیہ اور بکنگ دفاتر میں موجودہ اور منظور شدہ لے آؤٹ پلان نمایاں طور پر آویزاں کرنا ہوگا۔ سی ڈی اے نے اس کے لیے کم از کم 7 فٹ بائی 5 فٹ سائز مقرر کیا ہے تاکہ خریدار اسے واضح طور پر دیکھ سکیں۔

ڈسپلے پر ایک کیو آر کوڈ بھی موجود ہوگا جو صارفین کو منصوبے کی تفصیلات اور تازہ ترین معلومات کے لیے متعلقہ سرکاری ویب سائٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔

سی ڈی اے نے تمام اسپانسرز کو خط جاری ہونے کے 10 دن کے اندر تعمیلی رپورٹ اور تصاویر جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں معاملہ نیب کو رپورٹ کیا جائے گا، جو ضروری قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔

پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور منتقلی پر بھی سخت نگرانی

سی ڈی اے نے نجی ہاؤسنگ، فارم ہاؤسنگ، اپارٹمنٹ اور کمرشل اسکیموں کے لیے 2023 کے قواعد کے کلاز 40 کا حوالہ دیتے ہوئے پلاٹوں اور یونٹس کی الاٹمنٹ و منتقلی کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔

تمام اصل، عارضی یا منتقل شدہ الاٹمنٹ لیٹرز سی ڈی اے کے ڈیجیٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (MIS) یا ERP پلیٹ فارم کے ذریعے اتھارٹی کو فراہم کرنا ہوں گے۔ اس نظام کا مقصد منظور شدہ لے آؤٹ اور بلڈنگ پلان کے مقابلے میں فروخت کیے جانے والے رقبے کی نگرانی کرنا ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق کوئی بھی الاٹمنٹ لیٹر اس وقت تک قانونی حیثیت نہیں رکھے گا جب تک اسے سی ڈی اے کے ڈائریکٹر پلاننگ یا کسی مجاز افسر کی جانب سے جانچ اور دستخط نہ کیے جائیں۔

اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر ایک ہی پلاٹ یا یونٹ کی متعدد افراد کو الاٹمنٹ اور غیر قانونی فروخت کی شکایات کی روک تھام ہے۔

غیر منظور شدہ علاقوں میں پلاٹ کی الاٹمنٹ پر پابندی

سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ منظور شدہ لے آؤٹ یا بلڈنگ پلان سے باہر کسی پلاٹ، یونٹ یا اپارٹمنٹ کی الاٹمنٹ یا منتقلی نہیں کی جا سکتی۔

اسی طرح سی ڈی اے کے پاس رہن رکھے گئے ایسے پلاٹوں یا اراضی کی مزید منتقلی بھی نہیں کی جا سکے گی جب تک متعلقہ رہن ختم نہ کر دیا جائے۔

ریکارڈ برقرار رکھنے کے لیے بھی فیس مقرر کی گئی ہے۔ نجی ہاؤسنگ اور فارم ہاؤسنگ اسکیموں میں رہائشی پلاٹوں کے لیے 100 روپے فی مربع گز جبکہ کمرشل پلاٹوں کے لیے 1,000 روپے فی مربع گز فیس عائد ہوگی۔

اپارٹمنٹ یا کمرشل منصوبوں میں اپارٹمنٹس کے لیے 50 روپے فی مربع فٹ اور کمرشل یونٹس کے لیے 100 روپے فی مربع فٹ ریکارڈ مینٹیننس فیس وصول کی جائے گی۔

بجلی اور گیس کے کنکشن بھی منظور شدہ نقشے سے مشروط

سی ڈی اے نے آئیسکو (IESCO) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کو بھی خط لکھ کر ہدایت کی ہے کہ بجلی اور گیس کے کنکشن صرف ان پلاٹوں کو فراہم کیے جائیں جو منظور شدہ لے آؤٹ اور بلڈنگ پلان کے مطابق ہوں۔

اس کے علاوہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے کی منظوری کے بغیر نجی ہاؤسنگ، فارم ہاؤسنگ یا کمرشل منصوبوں کے اشتہارات شائع نہ کیے جائیں۔

سی ڈی اے نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ غیر منظور شدہ منصوبوں کی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے لیے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے بھی کارروائی کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع

سی ڈی اے کی جانب سے یہ اقدام رواں سال نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

جولائی میں اتھارٹی نے زون فور میں پرائم انکلیو کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ منصوبے میں لازمی لے آؤٹ پلان کی منظوری اور این او سی کے بغیر ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں۔ سی ڈی اے نے منصوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں، مارکیٹنگ، فروخت اور الاٹمنٹ فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی تھی۔

اپریل میں بھی سی ڈی اے نے اسلام آباد کی معروف ہاؤسنگ اسکیم بحریہ ٹاؤن کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں مبینہ بڑے تضادات کی نشاندہی کی تھی اور ٹاؤن پلاننگ کنسلٹنٹ سمیت سی ڈی اے کے ایک سابق ڈائریکٹر پلاننگ کو وضاحت کے لیے طلب کیا تھا۔

نیب نے پہلے بھی ہاؤسنگ اسکیموں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی

نجی ہاؤسنگ اسکیموں کی نگرانی سے متعلق حالیہ اقدامات کی بنیاد نیب کی ان سفارشات میں بھی ملتی ہے جو اس نے گزشتہ سال سی ڈی اے کے ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری کے لیے پیش کی تھیں۔

نیب کے مطابق بعض ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اپنے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں موجود پلاٹوں کی تعداد سے تقریباً دوگنا پلاٹ فروخت کیے، جس کے باعث متعدد خریداروں کو قبضہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان سفارشات کے بعد ڈویلپرز کے لیے ایسکرو اکاؤنٹس کے نظام کی تجویز بھی سامنے آئی، جنہیں سی ڈی اے کے ساتھ مشترکہ طور پر چلایا جانا تھا تاکہ ایک منصوبے کے لیے جمع کی جانے والی رقم دوسرے منصوبے میں منتقل نہ کی جا سکے۔

شہریوں کو سرمایہ کاری سے پہلے منظوری چیک کرنے کی ہدایت

سی ڈی اے اپنی ویب سائٹ پر منظور شدہ، زیرِ کارروائی اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی فہرست جاری کرتا ہے۔ اتھارٹی ماضی میں بھی شہریوں کو خبردار کر چکی ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری سے پہلے اس کی قانونی حیثیت اور سی ڈی اے سے منظوری ضرور چیک کی جائے۔

سی ڈی اے کے مطابق غیر منظور شدہ منصوبوں میں سرمایہ کاری قانونی اور مالی خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔

60 سے زائد ہاؤسنگ اسکیمیں فہرست میں شامل

حالیہ خط کے ساتھ اسلام آباد کے زونز 2، 4، 5 اور E-11 میں موجود نجی ہاؤسنگ اسکیموں، ان کے اسپانسرز اور فوکل پرسنز کے رابطہ نمبرز پر مشتمل فہرست بھی منسلک کی گئی ہے۔

فہرست میں بحریہ ٹاؤن کے فیز II تا VII، ملٹی گارڈنز، گلبرگ ریزیڈینشیا، سوان گارڈنز، اسلام آباد گارڈنز، نیشنل پولیس فاؤنڈیشن ہاؤسنگ اسکیم اور فیڈرل ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ (جناح گارڈن) سمیت 60 سے زائد اسکیمیں شامل ہیں۔

سی ڈی اے نے ہدایات کی نقول ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اسلام آباد، رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے کمپنیز رجسٹریشن آفس کو بھی ارسال کی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاؤسنگ اسکیموں کی نگرانی اور تعمیل کے عمل کو مختلف متعلقہ اداروں کے ذریعے مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ہفتہ وار مہنگائی میں 0.49 فیصد اضافہ

پیاز کی قیمت میں 14 فیصد اور پیٹرول میں تقریباً 4 فیصد اضافہ پاکستان کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے