
پیاز کی قیمت میں 14 فیصد اور پیٹرول میں تقریباً 4 فیصد اضافہ
پاکستان کے قلیل مدتی مہنگائی کے اشاریے، حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں 20 اگست 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 0.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ پیاز کی قیمتوں میں غیر معمولی اچھال اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ بنی۔ سالانہ بنیاد پر SPI میں اب 9.66 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
SPI، جو 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے، کے مطابق ہفتے کے دوران 23 اشیاء (بنیادی ٹوکری کا 45.1 فیصد) کی قیمتوں میں اضافہ، 10 اشیاء (19.6 فیصد) کی قیمتوں میں کمی جبکہ 18 اشیاء (35.3 فیصد) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
باورچی خانے کی بنیادی اشیاء میں اضافہ سرِفہرست
پیاز اس ہفتے سب سے نمایاں شے رہی، جس کی قیمت ہفتہ وار بنیاد پر 14.17 فیصد بڑھی جبکہ گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں 132.52 فیصد اضافہ ہوا — جو پوری ٹوکری میں کسی بھی شے کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔ چکن کی قیمت ہفتہ وار بنیاد پر 3.35 فیصد، لہسن 2 فیصد اور چنے کی دال میں تقریباً 1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ تیار چائے، لپٹن چائے، تازہ دودھ، پکی ہوئی دال، واشنگ سوپ اور سگریٹ کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ہوا۔
پیاز کی قیمتوں میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں۔ بڑی تھوک منڈیوں کے تاجر ہفتوں سے طلب اور رسد کے بڑھتے فرق کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ سپر ہائی وے پر واقع فلاحی انجمن ہول سیل ویجیٹیبل مارکیٹ کے صدر حاجی شاہجہان کے مطابق، سندھ سے نئی فصل کی پیاز کی ترسیل کمزور رفتار سے شروع ہوئی ہے اور اس میں بہتری موسم کے بعد کے حصے میں متوقع ہے — یعنی صارفین کو فوری ریلیف ملنے کا امکان کم ہے۔ اس کے علاوہ، رواں ماہ لاہور سے موصولہ رپورٹس کے مطابق مون سون بارشوں اور مال بردار ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث سبزیوں، پھلوں اور پولٹری کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں قیمتیں سرکاری نرخ ناموں سے کہیں زیادہ ہو گئیں — یہ رجحان قومی سطح کے SPI اعداد و شمار میں نظر آنے والے اتار چڑھاؤ سے مطابقت رکھتا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں نے دباؤ میں مزید اضافہ کیا
غیر خوراکی اشیاء میں پیٹرول سب سے بڑا محرک رہا، جس کی قیمت ہفتہ وار بنیاد پر 3.77 فیصد بڑھی۔ یہ اضافہ پاکستان کے حالیہ روزانہ ایندھن قیمتوں کے نظام کی طرف منتقلی کے بعد سامنے آیا، جس کے تحت اوگرا (OGRA) اب پندرہ روزہ نظرثانی کے بجائے بین الاقوامی خام تیل کے بینچ مارکس، مال برداری کے اخراجات اور کرنسی کی نقل و حرکت کی رولنگ اوسط کی بنیاد پر روزانہ پمپ قیمتیں طے کرتا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ساتھ ایک اور دباؤ بھی سامنے آیا: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز کا منافع بڑھا دیا، جب اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی نے پیٹرول اسٹیشن آپریٹرز کی جانب سے ہڑتال کی دھمکی ٹالنے کے لیے یہ منافع 8.64 روپے سے بڑھا کر 9.98 روپے فی لیٹر کرنے کی منظوری دی۔ سالانہ بنیاد پر پیٹرول 27.65 فیصد اور ڈیزل 33.08 فیصد مہنگا ہوا ہے، اگرچہ اس ہفتے ڈیزل کی قیمت میں 5.15 فیصد اور ایل پی جی میں 1.04 فیصد کمی بھی دیکھی گئی، جس سے کھانا پکانے کے ایندھن کے حوالے سے کچھ ریلیف ملا۔
دیگر اشیاء میں کمی
ہر شے کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا۔ انڈوں کی قیمت میں ہفتہ وار بنیاد پر 5.78 فیصد کمی آئی، ٹماٹر تقریباً 5 فیصد سستے ہوئے، جبکہ آلو، کیلے، چینی اور کئی دالیں بھی سستی ہوئیں۔ سالانہ بنیاد پر آلو ٹوکری میں سب سے زیادہ سستی ہونے والی شے رہی جس میں 30 فیصد کمی آئی، اس کے بعد چینی (-19.1 فیصد)، چکن (-17.68 فیصد) اور انڈے (-17.41 فیصد) شامل ہیں — جو یاد دلاتا ہے کہ اس ہفتے کا مجموعی اضافہ 51 اشیاء کی ٹوکری کی ایک مخلوط تصویر کو چھپائے ہوئے ہے۔
مہنگائی کی بڑی تصویر
اس ہفتے کا اعداد و شمار اگست میں جاری رجحان کا تسلسل ہے: گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ہفتہ وار SPI مہنگائی تقریباً 0.15 فیصد سے 0.49 فیصد کے درمیان رہی، جبکہ سالانہ شرح 9.1 فیصد سے 9.7 فیصد کے درمیان رہی۔ یہ سال کے ابتدائی حصے کی دوہرے ہندسوں کی شرح سے کافی کم ہے — جولائی میں مجموعی صارف مہنگائی جون کے 11.1 فیصد سے کم ہو کر 9.2 فیصد پر آ گئی تھی، اگرچہ خوراک کی مہنگائی بڑھ کر 10.6 فیصد ہو گئی تھی — جو ظاہر کرتا ہے کہ مجموعی مہنگائی 2026 کی بلند ترین سطح سے ٹھنڈی ضرور ہوئی ہے، لیکن خوراک اب بھی گھریلو بجٹ پر دباؤ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مسلسل کئی نظرثانی اجلاسوں میں پالیسی ریٹ برقرار رکھا ہے، جبکہ اس کی مانیٹری پالیسی کمیٹی معاشی منظرنامے میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے خوراک اور توانائی کی قیمتوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
آمدنی کے گروہوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو PBS کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی کا اثر یکساں نہیں ہے: سب سے کم آمدنی والے طبقے (17,732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے گھرانے) میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.38 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 9.87 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا — دونوں مجموعی قومی اوسط 9.66 فیصد کے قریب ہیں بلکہ سالانہ اعتبار سے اس سے بھی زیادہ، جو ظاہر کرتا ہے کہ کم آمدنی والے گھرانے خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے سامنے کس قدر بے دفاع ہیں۔
UrduLead UrduLead