
بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے کے بعد سخت سیکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال سے اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق انہیں دوبارہ سیل منتقل کردیا گیا ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال سے اڈیالا جیل واپس منتقل کردیا گیا۔ جیل ذرائع کے مطابق انہیں سخت سیکیورٹی حصار میں اسپتال سے جیل لایا گیا۔
ذرائع کے مطابق اڈیالا جیل پہنچنے کے بعد عمران خان کو دوبارہ ان کے سیل منتقل کردیا گیا۔ اسپتال میں ان کے طبی معائنے کے بعد حکام نے انہیں جیل واپس بھیج دیا۔
اس سے قبل عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر اڈیالا جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ عدالت نے 18 اگست کو انہیں طبی معائنے اور علاج کیلئے نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عمران خان کی اسپتال منتقلی کے موقع پر اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ بعض راستے ٹریفک کیلئے بند کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق اسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔ عدالت کی ہدایت کے تحت طبی جانچ میں ماہرین اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت کا معاملہ بھی اہم تھا۔
عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کئی ماہ سے زیر بحث رہے ہیں۔ ان کی جماعت اور اہل خانہ نے طبی سہولیات اور ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت نے تاہم فوری طبی ضرورت کے حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وفاقی حکومت نے اس فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نجی اسپتال منتقلی کے حکم پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے 20 اگست کو حکومتی نظرثانی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کردی۔ ذرائع کے مطابق حکومت اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کرسکتی ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالا جیل میں قید ہیں۔ ان کی قانونی ٹیم متعدد مقدمات میں عدالتی کارروائی اور سزاؤں کو چیلنج کرتی رہی ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کئی مقدمات کو سیاسی نوعیت کے قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومت اس مؤقف کو مسترد کرتی ہے۔
حالیہ اسپتال منتقلی عمران خان کی صحت اور عدالتی معاملات دونوں کے باعث اہم رہی۔ اب ان کی اڈیالا جیل واپسی کے بعد آئندہ قانونی کارروائی پر توجہ مرکوز ہوگی۔ سپریم کورٹ میں اسپتال منتقلی سے متعلق حکومتی مؤقف بھی آئندہ پیش رفت کا اہم حصہ ہوگا۔
عمران خان کی صحت، طبی سہولیات اور عدالتی احکامات کا معاملہ سیاسی طورپر اہم ہے۔ آئندہ سماعتوں میں اسپتال منتقلی اور طبی نگرانی سے متعلق مزید وضاحت متوقع ہے۔
UrduLead UrduLead