جمعہ , اگست 21 2026

غیرقانونی کال سینٹرز کے مکمل خاتمے کا فیصلہ

ملک بھر میں سرچ آپریشن شروع، ٹاسک فورس بلیک میلنگ، گیمبلنگ اور سکیمنگ کی تحقیقات کرے گی

حکومت پاکستان نے ملک بھر میں غیرقانونی کال سینٹرز کے مکمل خاتمے کے لیے سرچ آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جو بلیک میلنگ، آن لائن گیمبلنگ اور مالی فراڈ (سکیمنگ) میں ملوث نیٹ ورکس کی تحقیقات کرے گی۔ وزارتِ داخلہ کو اس ضمن میں کی جانے والی روزانہ کارروائیوں کی رپورٹس بھجوائی جائیں گی، جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو ٹاسک فورس کی معاونت کی ہدایت دی گئی ہے۔

پس منظر: حالیہ بڑے آپریشنز

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں متعدد بڑی کارروائیاں کی ہیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین سلیش تھری میں ایک آپریشن کے دوران غیرقانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار کیے گئے، جن میں چینی شہری بھی شامل تھے۔ ادارے کے مطابق اس کال سینٹر کے انتظامیہ کا غیراخلاقی مواد کی تیاری میں بھی ملوث ہونا سامنے آیا۔

اس سے قبل گلبرگ گرینز کے علاقے میں سپارکو پلازہ پر چھاپے کے دوران 372 غیر ملکی شہری گرفتار کیے گئے تھے، جن کا تعلق ویتنام، انڈونیشیا اور چین سے بتایا گیا۔ حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک جعلی سرمایہ کاری اسکیمز، اے آئی ڈیپ فیک اور آن لائن بلیک میلنگ میں ملوث تھا۔ مجموعی طور پر رواں سال اب تک 648 سے زائد غیر ملکی شہری ایسے آپریشنز میں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

آپریشن گرے کا تسلسل

حکام کے مطابق یہ نیا سرچ آپریشن “آپریشن گرے” کے تحت جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں فعال غیرقانونی کال سینٹرز کا خاتمہ ہے۔ اس آپریشن کی قیادت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام کر رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی سرکلز کی ٹیمیں براہِ راست کارروائیوں میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں سرگرم کال سینٹرز کی فہرست بھی مرتب کر لی گئی ہے تاکہ وہاں مؤثر کارروائی کی جا سکے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ٹاسک فورس کی تشکیل اور نئے سرچ آپریشن کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے بھرپور ردعمل کا اظہار کیا۔ بہت سے صارفین نے حکومتی اقدام کو سراہا اور اسے سائبر فراڈ اور آن لائن بلیک میلنگ کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ تاہم کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے کچھ اہلکاروں پر ہی غیرقانونی کال سینٹرز کو تحفظ فراہم کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج ہو چکے ہیں، لہٰذا نئی ٹاسک فورس کی شفافیت پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ متعدد صارفین نے مطالبہ کیا کہ صرف غیرملکی افراد ہی نہیں بلکہ مقامی سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔

تحقیقات کا دائرہ کار

حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ کار صرف غیرملکی شہریوں تک محدود نہیں بلکہ مقامی سہولت کاروں کو بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے، جنہوں نے ان نیٹ ورکس کے قیام میں مدد فراہم کی۔ ملزمان کے ویزے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور بڑی تعداد میں ملک بدری کی کارروائی متوقع ہے۔ نئی ٹاسک فورس تشکیل میں حساس ادارے، ایف آئی اے سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ اور  این ایف اے کے افسران شامل ہیں۔ وفاقی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو بھی نئی ٹاسک فورس کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ ٹاسک فورس ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے ماتحت کام کرے گی

About Aftab Ahmed

Check Also

نوجوانوں میں پروٹین شیک کا بڑھتا ہوا رجحان

پاکستان سمیت دنیا بھر میں نوجوانوں کے درمیان پروٹین شیک کے استعمال کا رجحان تیزی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے