جمعہ , اگست 21 2026

نوجوانوں میں پروٹین شیک کا بڑھتا ہوا رجحان

پاکستان سمیت دنیا بھر میں نوجوانوں کے درمیان پروٹین شیک کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جم جانے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پٹھے بنانے، وزن کم کرنے یا جسمانی طاقت بڑھانے کے لیے پروٹین شیک کا سہارا لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر فٹنس انفلوئنسرز کی مقبولیت نے بھی اس رجحان کو ہوا دی ہے، جہاں روزانہ ورزش کے ساتھ ساتھ پروٹین سپلیمنٹس کے استعمال کو “لازمی” قرار دیا جا رہا ہے۔

پروٹین شیک کیا ہے؟

پروٹین شیک عموماً وے پروٹین، سویا پروٹین یا دیگر پودوں سے حاصل شدہ پروٹین پاؤڈر کو پانی یا دودھ میں ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ورزش کے بعد پٹھوں کی مرمت اور نشوونما میں مدد دیتا ہے۔

ماہرینِ غذائیت کی رائے

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن خوراک لینے والے نوجوانوں کے لیے اضافی پروٹین شیک کی ضرورت عموماً نہیں ہوتی، کیونکہ روزمرہ کی خوراک جیسے انڈے، دالیں، دودھ اور گوشت سے مطلوبہ پروٹین حاصل کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پروٹین شیک صرف اُن افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جو شدید جسمانی ورزش کرتے ہیں یا جن کی غذا میں پروٹین کی کمی ہو۔

ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پروٹین کا استعمال گردوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر اُن نوجوانوں کے لیے جو بغیر مشورے کے مسلسل زیادہ مقدار میں سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔ کچھ سستے یا غیر معیاری برانڈز میں ملاوٹ یا زائد شکر کی موجودگی بھی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دی گئی ہے۔

فٹنس ٹرینرز کیا کہتے ہیں؟

فٹنس کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا مؤقف ہے کہ پروٹین شیک کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ ایک معاون غذا ہے۔ اُن کے مطابق باقاعدہ ورزش، نیند اور مکمل غذا کے بغیر صرف پروٹین شیک پر انحصار کرنا نتائج نہیں دے گا۔ وہ نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ سپلیمنٹ خریدنے سے پہلے معیار اور اجزاء کو ضرور جانچیں۔

والدین اور معالجین کی تشویش

معالجین کا کہنا ہے کہ کم عمر نوجوان اکثر بغیر طبی مشورے کے پروٹین سپلیمنٹس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، جو کہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اُن کی تجویز ہے کہ سپلیمنٹ شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا مستند غذائی ماہر سے مشورہ لیا جائے۔

نتیجہ

ماہرین کا مجموعی اتفاق یہ ہے کہ پروٹین شیک نہ تو مکمل طور پر نقصان دہ ہے اور نہ ہی ہر نوجوان کے لیے ضروری۔ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور ماہرانہ مشورہ ہی بہترین راستہ ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پنجاب، خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشوں کی وارننگ

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں گزشتہ رات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے