
محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں گزشتہ رات اور 21 اگست کو شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے وارننگ جاری کر دی ہے۔
کن علاقوں کو خطرہ ہے؟
محکمہ موسمیات کے مطابق تیز بارشوں سے اسلام آباد، راولپنڈی، مردان، صوابی، پشاور، نوشہرہ، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خدشہ ہے، جبکہ کشمیر، مری اور گلیات کے مقامی ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں ملک کے بالائی حصوں میں داخل ہو چکی ہیں اور ایک مغربی موسمی نظام بھی اثرانداز ہو رہا ہے، جس کے باعث اسلام آباد، پوٹھوہار، بالائی پنجاب، کشمیر اور بالائی و وسطی خیبرپختونخوا میں جمعرات اور جمعہ دونوں دن گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ملک کے باقی حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کے اعداد و شمار
پوٹھوہار، اسلام آباد، بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں گزشتہ روز وسیع پیمانے پر بارش ریکارڈ کی گئی۔ منگلا میں 119 ملی میٹر، اٹک میں 115، جہلم میں 98، جبکہ راولپنڈی کے کٹاریاں پوائنٹ پر 46 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اسلام آباد میں ایئرپورٹ کے مقام پر 66 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ نیوز رپورٹس کے مطابق راولپنڈی میں ندی لئی کا پانی کٹاریاں کے مقام پر 22 فٹ کی خطرناک سطح عبور کر گیا تھا، جس کے بعد ریسکیو 1122 نے رہائشیوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
جمعہ کی صبح ریکارڈ کی گئی بارش
محکمہ موسمیات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کی صبح تک راولپنڈی میں کچہری کے مقام پر سب سے زیادہ 147 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ شمس آباد میں 127 ملی میٹر، پیرودھائی میں 123 ملی میٹر، چکلالہ ایئرپورٹ اور نیو کٹاریاں پر 121-121 ملی میٹر اور گوالمنڈی میں 115 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اسلام آباد میں بوکڑا کے مقام پر 104 ملی میٹر، گولڑہ میں 100 ملی میٹر، زیرو پوائنٹ پر 99 ملی میٹر اور سیدپور میں 95 ملی میٹر بارش درج کی گئی، تاہم ایئرپورٹ کے مقام پر صرف 2 ملی میٹر بارش ہوئی۔ مسلسل بارش کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، جبکہ ندی لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری رہا۔
انتظامیہ کی تیاریاں
راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق واسا کی ٹیمیں ندی لئی اور دیگر حساس مقامات پر تعینات کر دی گئی ہیں۔ لیاقت باغ، کمیٹی چوک انڈرپاس، مری روڈ، ڈھوک کھبہ، سرکلر روڈ اور صادق آباد جیسے علاقوں میں پہلے سے مشینری موجود ہے تاکہ پانی جمع ہونے کی صورت میں فوری نکاسی کی جا سکے۔ ریسکیو حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو نالوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رکھیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
بارشوں اور ممکنہ اربن فلڈنگ کی خبریں سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے تشویش کا اظہار کیا۔ کئی صارفین نے اپنے علاقوں میں بارش کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں، جبکہ کچھ نے انتظامیہ کی نکاسی آب کی ناقص صورتحال پر سوالات اٹھائے۔ متعدد صارفین نے راولپنڈی کی ندی لئی کے قریب رہائشیوں کو محتاط رہنے کی تنبیہ کی، جبکہ دیگر نے سفر کرنے والوں کو مری اور گلیات جیسے پہاڑی مقامات کا سفر مؤخر کرنے کا مشورہ دیا۔
شہریوں کے لیے ہدایات
- غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خصوصاً مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی راستوں پر۔
- نشیبی اور نالوں کے قریب رہائشی علاقوں میں رہنے والے افراد چوکنا رہیں۔
- بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے دور رہیں۔
- مقامی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ہدایات پر عمل کریں۔
UrduLead UrduLead