
پیٹرولیم ڈویژن نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی برائے اپ گریڈیشن آف ایگزسٹنگ/براؤن فیلڈ ریفائنریز 2023 کے نفاذ کی ذمہ داری باضابطہ طور پر انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (آئی ایس جی ایس) کے حوالے کر دی ہے، جس سے ریگولیٹر اوگرا اور خود وزارت کی بیوروکریسی، دونوں کو اس کثیر ارب ڈالر کے پروگرام کے براہِ راست نفاذ سے الگ کر دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے 24 اگست 2026 کے مکتوب میں آئی ایس جی ایس کو ڈویژن کی جانب سے پالیسی کے نفاذ اور وہ تمام فرائض سرانجام دینے کا مجاز قرار دیا گیا جو اصل میں پیٹرولیم ڈویژن کو تفویض تھے۔ یہ فیصلہ 17 اگست کو پیٹرولیم سیکریٹری کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد کیا گیا۔
پس منظر: ایک پالیسی جسے مستقل ٹھکانہ نہ مل سکا
یہ ریفائننگ پالیسی پاکستان کی پانچ موجودہ ریفائنریوں کو یورو-5 معیار کے مطابق ایندھن کی پیداوار کی جانب لے جانے اور فرنس آئل سے دور کرنے کے لیے تشکیل دی گئی تھی، جس کے تحت ایچ ایس ڈی پر 2.5 فیصد اور ایم ایس پر 10 فیصد اضافی ڈیمڈ ڈیوٹی مراعات دی گئیں، جنہیں اپ گریڈ یا ایسکرو اکاؤنٹس کے ذریعے صنعتی ذرائع کے مطابق تقریباً 6 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پروگرام کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ نفاذ کا عمل کبھی ہموار نہیں رہا: 2023 میں پالیسی کے نوٹیفکیشن کے فوراً بعد ریفائنریوں نے ڈیوٹی کے دورانیے پر اعتراضات اٹھائے، اپ گریڈ ایگریمنٹس پر دستخط کی مہلتیں بار بار بڑھائی گئیں، اور یہ فریم ورک کیبنٹ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کے ذریعے کئی بار نظرِ ثانی کا شکار ہوا۔
اوگرا اس نفاذی طریقہ کار کی اصل نگران تھی اور پہلے ہی پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے ساتھ ایک اپ گریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کر چکی تھی۔ لیکن ریگولیٹر نے اس کردار میں برقرار رہنے پر تحفظات ظاہر کیے، اس مؤقف کے ساتھ کہ ریفائنریوں کے ساتھ معاہدے کرنا، ایسکرو اکاؤنٹس چلانا اور منصوبوں کی نگرانی کرنا اوگرا آرڈیننس 2002 کے تحت اس کے قانونی دائرہ کار سے باہر ہے — اور اس کے بجائے ایک مخصوص پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ یا حکومتی ملکیتی اسپیشل پرپز وہیکل کے قیام کی تجویز دی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے یہ تجویز مسترد کر دی، اس دلیل کے ساتھ کہ اوگرا نے خود یہ نفاذی طریقہ کار تشکیل دیا تھا، اور خبردار کیا کہ اس مرحلے پر ڈھانچہ تبدیل کرنے سے اپ گریڈ پروگرام مزید تاخیر کا شکار ہو گا۔ اس کے باوجود کیبنٹ کمیٹی برائے توانائی سے منظور بعد کی ترامیم میں دستخط اور نفاذ کا اختیار خود پیٹرولیم ڈویژن کو منتقل کر دیا گیا، جس سے اوگرا کا کردار صرف اس کے قانونی ریگولیٹری فرائض تک محدود کر دیا گیا، جبکہ غیر ریگولیٹری امور یا تو پیٹرولیم ڈویژن خود انجام دے گا یا کسی متبادل ادارہ جاتی انتظام کے ذریعے۔ آئی ایس جی ایس کی تقرری اسی “متبادل انتظام” کی عملی شکل ہے۔
آئی ایس جی ایس ہی کیوں، اور یہ سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟
آئی ایس جی ایس 1996 میں قائم کی گئی ایک حکومتی ملکیتی کمپنی ہے جو گیس درآمداتی اور پائپ لائن انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بنائی گئی تھی — اس کا ادارہ جاتی تجربہ سرحد پار گیس پائپ لائنوں اور ایل این جی سے متعلقہ منصوبوں پر مبنی ہے، نہ کہ ریفائنری فنانس یا ڈاؤن اسٹریم آئل سیکٹر ریگولیشن پر۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے بتایا کہ آئی ایس جی ایس کو یہ ذمہ داری دینے کا فیصلہ دراصل وزارت کی اپنی بیوروکریسی کی اس ہچکچاہٹ کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ خود اس پروگرام کے نفاذ اور نگرانی کی ذمہ داری براہِ راست نہ اٹھائے — یوں عملاً ایک سیاسی طور پر حساس، کثیر ارب ڈالر کے معاملے میں جوابدہی کو باہر منتقل کر دیا گیا۔ انہی ذرائع نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا آئی ایس جی ایس کے پاس اس ذمہ داری کے لیے درکار تکنیکی اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے۔
آئی ایس جی ایس کو سونپا گیا دائرہ کار خاصا وسیع ہے: ریفائنریوں کے ساتھ اپ گریڈ ایگریمنٹس پر عملدرآمد، ریفائنری اپ گریڈ اکاؤنٹس کھولنا اور ان کا انتظام، منصوبوں کی نگرانی، کنسلٹنٹس اور آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنا، اور مراعاتی ادائیگیاں کرنا۔ صنعتی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ایک ایسی کمپنی، جسے ڈاؤن اسٹریم آئل سیکٹر کا محدود تجربہ ہے، ایسے پیچیدہ ریفائنری جدید کاری منصوبوں سے جڑی مراعاتی ادائیگیوں پر گیٹ کیپنگ کے کردار میں آ جاتی ہے — بالکل وہی نوعیت کی تکنیکی نگرانی جسے اوگرا خود اپنے دائرہ کار سے باہر قرار دے چکی تھی۔
ماہرین اور صنعتی تجزیہ
اس معاملے پر نظر رکھنے والے توانائی سیکٹر کے تجزیہ کاروں اور صنعتی حکام نے کئی اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے:
- صلاحیت کا فقدان: آئی ایس جی ایس کا بنیادی تجربہ گیس پائپ لائن اور درآمداتی انفراسٹرکچر تک محدود ہے۔ ریفائنری اپ گریڈ ایگریمنٹس کے لیے ڈاؤن اسٹریم پراسیس انجینئرنگ کی مہارت، پراجیکٹ فنانس مانیٹرنگ، اور مرحلہ وار مراعاتی ادائیگیوں کی آڈٹ نگرانی درکار ہوتی ہے — ایک ایسی مہارت جو کمپنی کو پہلے کبھی درکار نہیں رہی۔
- جوابدہی کا ابہام: نفاذ کی ذمہ داری پیٹرولیم ڈویژن یا کسی خصوصی طور پر بنائی گئی پی ایم یو/ایس پی وی (جیسا کہ اوگرا نے خود تجویز کیا تھا) کے بجائے ایک سرکاری کمپنی کو منتقل کرنے سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ تاخیر یا تنازعات کی صورت میں جوابدہی کس ادارے کی ہو گی — ایک ایسا مسئلہ جس کا یہ پالیسی 2023 سے بار بار شکار رہی ہے۔
- ادارہ جاتی دائرہ کار میں توسیع کی مثال: ایک گیس سیکٹر کے ادارے کو آئل ریفائننگ کا مینڈیٹ دینا ایک ایسی مثال قائم کرتا ہے جو پاکستان کی توانائی بیوروکریسی میں مستقبل میں بھی دہرائی جا سکتی ہے، جب بھی کوئی وزارت کسی مشکل معاملے سے فاصلہ چاہے گی۔
- پی ایم یو کا سوال تاحال حل طلب: خود پالیسی میں تکنیکی اور مالیاتی ماہرین پر مشتمل ایک پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی گنجائش موجود ہے۔ اس بات کا انحصار کہ آیا یہ پی ایم یو واقعی آئی ایس جی ایس کی کمزوریوں کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا جاتا ہے یا محض کاغذی حد تک رہتا ہے، اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا ریفائنریوں کے لیے پروگرام تیز ہوتا ہے یا صرف ذمہ دار ادارہ بدلتا ہے، رفتار نہیں۔
- سرمایہ کاروں کے لیے پیغام: اپ گریڈ پروگرام کے لیے غیر ملکی فنانسنگ زیرِ غور ہونے کے باعث، معاہدوں اور ایسکرو/اپ گریڈ اکاؤنٹس کے ذمہ دار ادارے میں بار بار تبدیلی، قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں کی نظر میں پالیسی کے گرد جاری ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال کے تاثر کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
عوامی اور سوشل میڈیا ردعمل
چونکہ آئی ایس جی ایس کی تقرری ایک تازہ اور شعبہ جاتی نوعیت کی پیش رفت ہے (مکتوب 24 اگست 2026 کا ہے)، اب تک اس پر بحث بنیادی طور پر توانائی صنعت اور پالیسی حلقوں تک محدود رہی ہے، عام عوامی سطح پر وسیع پیمانے پر بحث دیکھنے میں نہیں آئی — جو کہ ریفائنری پالیسی کے نفاذ جیسے تکنیکی، ادارہ جاتی معاملے کی اس نوعیت کی عکاسی کرتا ہے، بمقابلہ صارفین سے براہِ راست جڑے توانائی کے مسائل جیسے ایندھن کی قیمتیں یا لوڈشیڈنگ۔ اعلان کے گرد گردش کرنے والی صنعتی رائے دو نکات پر مرکوز ہے: آئی ایس جی ایس کی اس مینڈیٹ کے لیے تیاری پر شکوک، جو اس کے بنیادی گیس انفراسٹرکچر کاروبار سے کافی مختلف ہے، اور اس بات پر مایوسی کہ 2023 میں نوٹیفائی ہونے والی ریفائننگ پالیسی اب بھی انتظامی طور پر تشکیلِ نو کا شکار ہے، بجائے اس کے کہ ریفائنریوں کی جدید کاری عملی طور پر آگے بڑھے۔
UrduLead UrduLead