
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ گلوکارہ حرا قیصر نے اپنی شاندار آواز، جذباتی پرفارمنس اور اعتماد کے بل بوتے پر ’پاکستان آئیڈل سیزن 2‘ (2026) کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ کراچی میں اتوار کی شب منعقدہ گرینڈ فائنل میں ججوں کے متفقہ فیصلے کے بعد انہیں ’پاکستان آئیڈل سپر اسٹار‘ قرار دیا گیا اور 15 لاکھ روپے نقد انعام سے نوازا گیا۔
فتح کا لمحہ
فاتح قرار دیے جانے کے بعد حرا قیصر اپنے ننھے بیٹے کو گود میں اٹھائے اسٹیج پر پہنچیں اور میزبان شفاعت علی سے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے جذباتی ہو گئیں۔ سپر فائنل میں راحت فتح علی خان، فواد خان، بلال مقصود اور زیب بنگش پر مشتمل مستقل جیوری کے ساتھ عاطف اسلم بطور ’سوپر آئیکن‘ اور مہمان جج موجود تھے، جنہوں نے حرا قیصر کی پرفارمنس پر کھڑے ہو کر داد دی۔ سپر فائنل کی خصوصی اسکریننگ کراچی اور فیصل آباد کے سینما گھروں میں بھی کی گئی۔
پس منظر: متوسط گھرانے سے قومی اسٹیج تک کا سفر
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی حرا قیصر نے بتایا کہ ابتدا میں ان کے خاندان میں لڑکیوں کو باہر جا کر گانے کی اجازت نہیں تھی، اور گھر والے ان کی گائیکی کے خلاف تھے۔ ان کے مطابق ان کے بھائی اور شوہر کی بھرپور حمایت کے باعث ہی وہ اس مقام تک پہنچ سکیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر نے انہیں آڈیشن دینے کی ترغیب دی تھی تاکہ وہ اپنا گھر بنانے کا خواب پورا کر سکیں۔ پورے سیزن کے دوران انہیں کئی چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم انہوں نے کسی مشکل کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اور اپنی خوبصورت آواز و پرفارمنس سے ججز اور ناظرین دونوں کی توجہ حاصل کی۔
پاکستان آئیڈل سیزن 2 کی اہمیت
پاکستان آئیڈل ملک میں موسیقی کا سب سے بڑا مقابلہ تصور کیا جاتا ہے، اور اس سیزن نے ملک بھر کے ابھرتے ہوئے گلوکاروں کو قومی اسٹیج پر متعارف کرایا۔ شو کی میزبانی شفاعت علی نے کی، جنہیں اس شو میں خدمات اور قومی سطح پر فن کو فروغ دینے پر صدارتی تمغۂ امتیاز کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔ فائنل میں انگلش بسکٹ مینوفیکچررز (ای بی ایم) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہ زین منیر نے حرا قیصر کو فاتح کی ٹرافی پیش کی۔
UrduLead UrduLead