
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں نئی سیریز کے کرنسی نوٹس جاری کرنے کے لیے تمام تکنیکی اور پرنٹنگ تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئے نوٹس کے ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اب یہ وفاقی حکومت کی منظوری کے منتظر ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن (Pakistan Security Printing Corporation) نے جدید ترین سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ نئے کرنسی نوٹس کی چھپائی کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
ان فیچرز میں جدید واٹر مارک، سیکیورٹی تھریڈ، مائیکرو ٹیکسٹ، UV انک، آپٹیکل ویریبل انک (OVI)، لیٹنٹ امیجز، اسپیشل انٹگلیو پرنٹنگ اور دیگر اینٹی کاؤنٹر فیٹ اقدامات شامل ہیں جو جعلی نوٹس کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک نے منتخب کردہ ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کی تفصیلات وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر منظوری کے لیے بھیج دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئے کرنسی نوٹس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔ کابینہ کی منظوری کے فوری بعد پرنٹنگ کا حکم جاری کیا جائے گا اور بڑے پیمانے پر چھپائی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نئی سیریز کے کرنسی نوٹس مختلف ڈینومینیشنز (مثلاً 5، 10، 20، 50، 100، 500، 1000 اور ممکنہ طور پر 5000 روپے) میں جاری کیے جائیں گے۔ ان نوٹس میں قومی شخصیات، تاریخی مقامات، ثقافتی ورثے اور پاکستان کی ترقیاتی منصوبوں کی عکاسی کی جائے گی۔
نئی سیریز کے نوٹس پرانے نوٹس کے ساتھ ساتھ گردش میں رہیں گے اور پرانے نوٹس کو آہستہ آہستہ مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔اسٹیٹ بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ نئی کرنسی نوٹس کی آمد سے کرنسی کے معیار کو بہتر بنانے، جعلی نوٹس کی روک تھام اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق کرنسی کو جدید بنانے میں مدد ملے گی۔
توقع ہے کہ کابینہ کی منظوری اور پرنٹنگ کے عمل کے بعد نئے نوٹس 2026 کے آخری کوارٹر یعنی دسمبر 2026 تک عوام کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے۔
یہ اقدام اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرنسی مینجمنٹ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے جو گزشتہ چند برسوں سے زیر غور تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ نئی سیریز کے نوٹس نہ صرف کرنسی کی حفاظت کو بڑھائیں گے بلکہ ملک کی معاشی استحکام اور عوامی اعتماد میں بھی اضافہ کریں گے۔اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت کی جانب سے جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
UrduLead UrduLead