جمعہ , مارچ 13 2026

پیٹرول مہنگا کرنا ضروری تھا: وزیر خزانہ

ایل این جی مہنگی، سپلائی خطرے میں تھی: حکومت

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی، ایل این جی کی مہنگی درآمد اور سپلائی کے خدشات کے باعث حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں، ورنہ ملک میں ایندھن کی قلت اور راشنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافے پر بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی کی نگرانی کیلئے ایک وزارتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کر کے عالمی مارکیٹ اور خطے کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی عالمی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور حکومت کو فوری فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک میں ایندھن کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور سری لنکا اور بنگلادیش میں فیول راشنگ کی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، اسی لئے پاکستان نے سپلائی برقرار رکھنے کیلئے قیمتوں میں اضافہ کیا۔

وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ قطر سے مائع قدرتی گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور جنگی حالات کے باعث ہنگامی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایل این جی کا ایک کارگو جو عام حالات میں تقریباً 25 ملین ڈالر میں ملتا ہے، موجودہ صورتحال میں 100 ملین ڈالر تک مہنگا ہو گیا ہے، جس سے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور توانائی کی لاگت بڑھ گئی ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی رکن فاروق ایچ نائیک نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ پرانے اسٹاک پر بھی لاگو کیا گیا، جس سے عوام پر اضافی بوجھ پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو حکومت کو عوام کو فوری ریلیف دینا چاہئے کیونکہ پاکستان براہ راست جنگ کا حصہ نہیں ہے۔

اس پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ پاکستان براہ راست جنگ میں شامل نہیں لیکن عالمی حالات کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایسی صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں توانائی کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، کیونکہ سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں معیشت کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر قیمتیں نہ بڑھائی جاتیں تو پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کرنے والی کمپنیوں کو شدید نقصان ہوتا اور وہ خریداری روک سکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی درآمد میں تقریباً 20 دن لگتے ہیں اور اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جائے تو ملک میں قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق راشنگ کی نوبت آنے سے معیشت اور صنعت دونوں متاثر ہوتیں، اس لئے حکومت نے سپلائی چین برقرار رکھنے کیلئے مشکل فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے اور وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ عالمی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جائے۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق جمعہ کو عالمی منڈی کی نئی قیمتوں کو دیکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کا توانائی کا نظام بڑی حد تک درآمدی تیل اور ایل این جی پر انحصار کرتا ہے، اس لئے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی قیمتوں پر پڑتا ہے، اور حکومت کیلئے سپلائی برقرار رکھنے اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا، مذاکرات جاری

پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تیسرے جائزے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے