جمعرات , مارچ 12 2026

تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

اوپیک باسکٹ 115 ڈالر سے اوپر

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ اوپیک باسکٹ کی قیمت تقریباً 20 فیصد اضافے کے بعد 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق WTI crude کی قیمت 88.51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو 6 فیصد سے زائد اضافے کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ Brent crude 92.41 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ توانائی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ رسد میں خدشات اور اوپیک پلس کی پیداوار پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث دیکھا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق OPEC basket کی قیمت 115.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو تقریباً 19.8 فیصد اضافے کے برابر ہے اور حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہو رہی ہے۔ توانائی تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک ممالک کی جانب سے پیداوار میں محتاط اضافے کی پالیسی اور بعض رکن ممالک میں سپلائی مسائل نے قیمتوں کو اوپر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اوپیک کی تازہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق عالمی طلب میں اضافہ خصوصاً ایشیا میں صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کے باعث ہو رہا ہے۔

دوسری جانب Louisiana Light crude 104.2 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ WTI Midland 87.57 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جو امریکی مارکیٹ میں مضبوط طلب کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی اور ریفائنری سرگرمیوں میں اضافے کے باعث قیمتوں کو سہارا ملا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر توقع سے زیادہ کم ہوئے جس سے مارکیٹ میں تیزی آئی۔

قدرتی گیس کی قیمت بھی 3.099 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میں بھی 3.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موسم کی شدت، توانائی کی بڑھتی طلب اور جیوپولیٹیکل کشیدگی توانائی مارکیٹ کو متاثر کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور روس سے متعلق خدشات کو بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم تمام اقسام کے خام تیل میں یکساں رجحان نہیں دیکھا گیا اور Murban crude کی قیمت 96.86 ڈالر تک گر گئی جبکہ Mars crude میں تقریباً 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق مختلف گریڈز کی قیمتوں میں فرق کا تعلق سپلائی کے ذرائع، ریفائنری ڈیمانڈ اور شپنگ لاگت سے ہوتا ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اوپیک پلس آئندہ اجلاس میں پیداوار محدود رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھتا ہے تو عالمی منڈی میں قیمتیں مزید بلند رہ سکتی ہیں۔ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویش کا باعث سمجھی جا رہی ہے کیونکہ بلند قیمتیں درآمدی بل، مہنگائی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں، اور اسی تناظر میں حکومتیں توانائی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پی ایم ڈی سی کا طلبہ رجسٹریشن لازمی قرار

پی ایم ڈی سی نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو ہر طالبعلم کی بروقت رجسٹریشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے