
فنانشل ٹائمز کی تحقیقات کے مطابق تقریباً پچاس کمپنیوں کا نیٹ ورک روسی تیل کی اصل چھپانے اور پابندیوں سے بچنے کیلئے اربوں ڈالر کی تجارت کرتا رہا۔
فنانشل ٹائمز کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً پچاس بظاہر الگ الگ کمپنیوں پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک روسی تیل کی اصل چھپانے کیلئے باہمی رابطے میں رہا اور اس کے ذریعے کم از کم 90 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل فروخت کیا گیا، جبکہ اصل حجم اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک کا سراغ ایک تکنیکی غلطی کے باعث لگا جب معلوم ہوا کہ 48 مختلف کمپنیاں ایک ہی نجی ای میل سرور استعمال کر رہی تھیں، جس سے ان کے درمیان رابطے اور باہمی تعاون کا پتہ چلا۔ تحقیقات میں شامل اداروں اور افراد کے روابط روس کی سرکاری کنٹرول میں موجود بڑی آئل کمپنی روزنیفٹ سے بھی جوڑے گئے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ نیٹ ورک خاص طور پر روسی خام تیل کی اصل چھپانے کیلئے کام کر رہا تھا تاکہ پابندیوں کے باوجود عالمی منڈی میں فروخت جاری رکھی جا سکے۔ اندازوں کے مطابق اس خفیہ تجارت سے حاصل ہونے والا منافع کم از کم 90 ارب ڈالر ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل رقم اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکہ نے اکتوبر 2025 میں روزنیفٹ پر پابندیاں عائد کی تھیں جس کے بعد کمپنی کیلئے مغربی منڈیوں تک رسائی محدود ہو گئی تھی۔ پابندیوں کے باوجود روسی کمپنیوں اور ان کے شراکت داروں نے تیل کی فروخت روکنے کے بجائے متبادل راستے اختیار کئے اور اسمگلنگ جیسے نیٹ ورک کو مزید فعال کر دیا۔
تحقیقات کے مطابق اکتوبر 2025 کے بعد ریڈووڈ گلوبل سپلائی نامی کمپنی اس نیٹ ورک کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن کر سامنے آئی جو روسی خام تیل کی فروخت میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی۔ برطانیہ نے دسمبر 2025 میں اس کمپنی پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے ان اداروں میں شامل کیا جو روس کے توانائی کے شعبے کی مدد کر رہے تھے۔ برطانوی حکام نے اسی کارروائی میں مزید 13 افراد اور اداروں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ای میل سرور سے منسلک بعض کمپنیاں پہلے ہی یورپی یونین کی پابندیوں کے حکام کی نظر میں تھیں اور ان پر مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ تھا، تاہم حالیہ تحقیقات سے اس نیٹ ورک کا حجم پہلے اندازوں سے کہیں زیادہ بڑا ظاہر ہوا ہے۔ اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ اس نیٹ ورک میں مزید کتنی کمپنیاں یا افراد شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پابندیوں کے باوجود روسی تیل کی تجارت جاری رہنا غیر معمولی بات نہیں کیونکہ عالمی تیل کا کاروبار انتہائی منافع بخش ہے اور پابندیوں کے باوجود خفیہ فروخت کے راستے تلاش کئے جاتے ہیں۔ میرین انٹیلی جنس کمپنی ونڈورڈ کی ماہر مشیل ویزے بوک مین نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ روزنیفٹ اور لوک آئل ایک ہی مارکیٹنگ نیٹ ورک اور ٹینکروں کے ذریعے پابندیوں سے بچ کر تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد روس پر عائد توانائی پابندیوں نے عالمی تیل تجارت میں ایک متوازی نظام پیدا کر دیا ہے جس میں غیر واضح کمپنیوں، پرچم بدلنے والے جہازوں اور خفیہ مالیاتی چینلز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ موجودہ انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پابندیوں کے باوجود روسی تیل عالمی منڈی میں پہنچ رہا ہے اور توانائی کی عالمی سیاست میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
UrduLead UrduLead