منگل , مارچ 10 2026

ایران جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے رابطے کے بعد کہا کہ ایران تنازع جلد ختم ہوسکتا ہے جبکہ روس نے سفارتی حل کی تجاویز پیش کی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد ختم ہوسکتی ہے اور اس سلسلے میں روس سفارتی کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے، جبکہ ماسکو نے بھی تنازع کے سیاسی حل کیلئے مختلف تجاویز پیش کرنے کی تصدیق کی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فون پر تفصیلی بات چیت ہوئی جس میں ایران اور یوکرین جنگ سمیت اہم عالمی تنازعات زیر بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنگ چند دنوں یا ہفتوں میں ختم ہوسکتی ہے اور ان کے خیال میں یہ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے کہا کہ روس ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرانے میں مدد کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے روسی قیادت کو یہ بھی کہا کہ اگر یوکرین جنگ کا خاتمہ ہو جائے تو عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود روس اس معاملے میں تعمیری کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین جنگ اور عالمی توانائی منڈی کے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی صدر کے مشیر یوری اوشاکوف نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے ایران سے متعلق تنازع کے حل کیلئے سیاسی اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس حوالے سے متعدد تجاویز پیش کیں۔

روسی حکام کے مطابق صدر پیوٹن نے خلیجی ممالک کے رہنماؤں، ایران کے صدر اور دیگر عالمی شخصیات کے ساتھ حالیہ رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ایران جنگ کے جلد خاتمے کیلئے سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔

یوکرین جنگ بھی گفتگو کا اہم موضوع رہی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین تنازع کو بھی جلد ختم ہونا چاہئے اور اس کیلئے طویل مدتی سیاسی حل ضروری ہے۔ روسی بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جاری جنگوں کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

کریملن نے بتایا کہ ٹیلی فونک گفتگو میں وینزویلا کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی کیونکہ عالمی تیل کی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا تعلق مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ چین، روس اور فرانس سمیت کئی ممالک نے تہران سے جنگ بندی کے حوالے سے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی جنگ بندی کیلئے ضروری ہے کہ ایران کے خلاف جارحیت دوبارہ نہ دہرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارتی کوششوں کیلئے تیار ہے لیکن قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عالمی مبصرین کے مطابق ایران تنازع، یوکرین جنگ اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال اس وقت عالمی سیاست کے تین بڑے بحران بن چکے ہیں اور بڑی طاقتیں سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس، چین اور یورپی ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے رابطے تیز کر رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے آئندہ دنوں میں مزید سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

روسی تیل اسمگلنگ سے 90 ارب ڈالر کی تجارت

فنانشل ٹائمز کی تحقیقات کے مطابق تقریباً پچاس کمپنیوں کا نیٹ ورک روسی تیل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے