
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ NGMS/5G اسپیکٹرم نیلامی پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرے گی اور آئی ٹی برآمدات، ٹیلی کام توسیع اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مضبوط بنائے گی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے منعقدہ NGMS/5G اسپیکٹرم نیلامی پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ حکومت رابطہ نظام بہتر بنانے، آئی ٹی برآمدات بڑھانے اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں اسپیکٹرم نیلامی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ نیلامی تقریباً ڈیڑھ سال پر محیط کام کا نتیجہ ہے جس میں اسپیکٹرم کمیٹی نے تفصیلی مشاورت کے بعد ایسا فریم ورک تیار کیا جس کا مقصد حکومتی آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ٹیلی کام شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوگا اور پاکستان اگلی نسل کی ٹیلی کام سروسز کی طرف بڑھے گا۔
حکام کے مطابق یہ نیلامی ٹیلی کام شعبے کی جدید کاری کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جہاں حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی دیکھی گئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد تقریباً 20 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ براڈ بینڈ صارفین کی تعداد مارچ 2025 تک 14 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جس سے ڈیجیٹل سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب ظاہر ہوتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اسپیکٹرم نیلامی کا عمل پہلی بار 2021 میں شروع کیا گیا تھا اور مختلف حکومتوں کے دوران پالیسی تسلسل برقرار رکھنے سے اس منصوبے کی تکمیل ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری کیلئے مستقل پالیسی ضروری ہوتی ہے اور ڈیجیٹل رابطہ نظام نہ صرف ٹیلی کام کمپنیوں بلکہ برآمد کنندگان، فری لانسرز اور آن لائن کاروبار کیلئے بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر رابطہ نظام آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کے شعبے کو مزید مضبوط بنائے گا جو پاکستان کی تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں میں شامل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات تقریباً 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو سالانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں، جبکہ فری لانسنگ اور سافٹ ویئر برآمدات اس شعبے کی نمو میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع، ادائیگیوں کے جدید نظام کے فروغ اور سرکاری لین دین کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہی ہے تاکہ معیشت کی دستاویز بندی کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مزید اسپیکٹرم کی دستیابی سے ٹیلی کام کمپنیاں رفتار بہتر بنا سکیں گی، لاگت کم ہوگی اور ملک بھر میں کوریج بڑھے گی، جو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ویب 3.0 جیسی نئی ٹیکنالوجیز کیلئے ضروری ہے۔
حکام کے مطابق آئی سی ٹی شعبہ حکومتی مراعات اور تربیتی پروگراموں سے بھی فائدہ اٹھا رہا ہے اور لاکھوں نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جا چکی ہے جبکہ ہزاروں آئی ٹی کمپنیاں رجسٹر ہو چکی ہیں، جس سے سروسز برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 5G سروسز کے آغاز سے بینکنگ، تعلیم، صحت اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں پیداواری صلاحیت بہتر ہوگی، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے۔ حکومت نے اسپیکٹرم نیلامی کو ڈیجیٹل پاکستان وژن سے منسلک کیا ہے جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ، مالی شمولیت کو فروغ دینا اور نقد معیشت پر انحصار کم کرنا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسپیکٹرم کمیٹی، ریگولیٹری اداروں اور ٹیلی کام صنعت کے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ NGMS/5G اسپیکٹرم نیلامی کے بعد اگلا مرحلہ سروسز کے نفاذ اور توسیع کا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ NGMS/5G اسپیکٹرم نیلامی پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے، ٹیلی کام شعبے کو وسعت دینے اور ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی، جسے حکومت مستقبل کی اقتصادی حکمت عملی کا بنیادی ستون قرار دے رہی ہے۔
UrduLead UrduLead