
نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ میں میرٹ فہرست کے سرفہرست امیدوار کو نظرانداز کر کے کم اسکور امیدوار کی سفارش پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ National Investment Trust Limited میں منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کے معاملے پر اختلافات سامنے آگئے ہیں، جہاں بورڈ کی ایچ آر کمیٹی کی جانب سے سرفہرست قرار دیے گئے امیدوار کو نظرانداز کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بورڈ کی ہیومن ریسورس اینڈ ریمونریشن کمیٹی نے تین امیدواروں کے نام میرٹ کی بنیاد پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھجوائے تھے۔ کمیٹی نے مسٹر منظور احمد کو 88 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن دی اور انہیں ایم ڈی کے عہدے کے لیے مضبوط ترین امیدوار قرار دیا تھا۔
کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ منظور احمد کو میوچل فنڈ انڈسٹری میں 36 سالہ تجربہ حاصل ہے اور وہ نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ وہ تین مرتبہ قائم مقام ایم ڈی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ رپورٹ میں انہیں غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل امیدوار قرار دیتے ہوئے مضبوط سفارش کی گئی تھی۔
دوسرے امیدوار محمد اسد کو 66 پوائنٹس دیے گئے۔ کمیٹی کے مطابق انہیں 24 سال کا تجربہ حاصل ہے، تاہم قیادت کی صلاحیتوں اور کمیونیکیشن اسکلز میں کمزوری کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کا تجربہ زیادہ تر اسلامی شریعہ کمپلائنٹ سرمایہ کاری تک محدود ہے اور روایتی فنڈ مینجمنٹ کا تجربہ نہ ہونے کے باعث وہ ایم ڈی کے عہدے کے لیے موزوں نہیں۔
تیسرے امیدوار سلمان حیدر شیخ نے 60 پوائنٹس حاصل کیے۔ انہیں 12 سال کا تجربہ حاصل ہے اور گزشتہ تین سال سے آئی کیو سلوشنز میں مشاورتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق وہ میوچل فنڈ انڈسٹری کی موجودہ حرکیات سے مکمل ہم آہنگ نہیں، اس لیے انہیں بھی موزوں قرار نہیں دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سفارشات موصول ہونے کے بعد وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک نئی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں احد چیمہ اور بلال اظہر کیانی بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے ایچ آر کمیٹی کی سفارشات کے برعکس پہلے نمبر پر آنے والے امیدوار کو نظرانداز کرتے ہوئے دوسرے امیدوار کے نام کی منظوری دے دی، حالانکہ ایچ آر کمیٹی انہیں غیر موزوں قرار دے چکی تھی۔
اس فیصلے کے بعد ادارے کے اندر اور مالیاتی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میرٹ لسٹ میں سرفہرست امیدوار کو نظرانداز کرنا کارپوریٹ گورننس کے اصولوں کے منافی ہے۔ سرکاری ملکیتی مالیاتی اداروں میں تقرریوں کے طریقہ کار پر ماضی میں بھی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔
نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ 1962 میں قائم ہوا تھا اور اسے پاکستان کی پہلی اثاثہ جاتی انتظامی کمپنی سمجھا جاتا ہے۔ ادارہ میوچل فنڈز کے انتظام اور سرمایہ کاری کے جدید حل فراہم کرنے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ 30 ستمبر 2025 تک کمپنی کے زیر انتظام اثاثوں کا حجم تقریباً 222 ارب روپے تھا جبکہ ملک بھر میں اس کے 54 ہزار 756 سے زائد یونٹ ہولڈرز ہیں۔
پاکستان میں میوچل فنڈ انڈسٹری کا حجم حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق سخت مالیاتی پالیسی اور بلند شرح سود کے باوجود سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد محفوظ اور ریگولیٹڈ سرمایہ کاری ذرائع کی جانب راغب ہوئی ہے۔ ایسے میں نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ جیسے بڑے ادارے کی قیادت کا تقرر نہ صرف کمپنی بلکہ وسیع تر کیپٹل مارکیٹ کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
UrduLead UrduLead