جمعہ , فروری 27 2026

یو اے ای قرض رول اوور جاری: محمد اورنگزیب

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر قرض کی مدت میں توسیع پر بات چیت جاری ہے اور بیرونی مالیاتی خلا مکمل طور پر پُر کیا جا چکا ہے، جب کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت جاری ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر قرض کی مدت میں توسیع کے لیے رابطے میں ہے اور اس حوالے سے کوئی رکاوٹ درپیش نہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بیرونی مالیاتی خلا مکمل طور پر پُر کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی مالی ضروریات پر International Monetary Fund سے پروگرام کے آغاز پر تفصیلی بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ جائزہ مذاکرات میں بھی اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے اور کارکردگی اہداف پر پیش رفت تسلی بخش ہے۔

پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ منسلک ہے، جب کہ 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی پر بھی بات چیت جاری ہے۔ حکام کے مطابق کامیاب جائزے کی صورت میں آئی ایم ایف بورڈ سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی دو اقساط کی منظوری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات، Saudi Arabia اور China نے آئی ایم ایف پروگرام کی مدت تک اسٹیٹ بینک میں مجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس برقرار رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔ یہ رقوم پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار امارات نے قرض کی مدت میں صرف ایک ماہ کی توسیع کی تھی اور مزید توسیع کے بارے میں باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ برس دسمبر میں گورنر State Bank of Pakistan نے متحدہ عرب امارات سے 2.5 ارب ڈالر قرض دو سال کے لیے رول اوور کرنے اور شرح سود 6.5 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کرنے کی درخواست کی تھی۔ ذرائع کے مطابق جنوری میں توسیع کے وقت اماراتی حکام نے عندیہ دیا تھا کہ یہ آخری توسیع ہو سکتی ہے، جس کے بعد موجودہ مذاکرات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ متحدہ عرب امارات ایک ارب ڈالر مالیت کے حصص کے حصول پر بھی بات چیت کر رہا ہے، جس سے دوطرفہ سرمایہ کاری تعاون میں اضافہ متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ مالی تعاون پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے لیے ناگزیر ہے۔

آئی ایم ایف مشن کراچی پہنچ چکا ہے جہاں وہ اسٹیٹ بینک کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ اس جائزے میں نیٹ انٹرنیشنل ریزروز، نیٹ ڈومیسٹک اثاثے اور سواپ پوزیشن جیسے اہم اشاریے شامل ہوں گے۔ حالیہ مہینوں میں زرمبادلہ ذخائر میں بہتری دیکھی گئی ہے، جسے حکام معاشی استحکام کی علامت قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کو رواں مالی سال میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور درآمدی ضروریات کے باعث نمایاں مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی کنٹرول جیسے اقدامات کے ذریعے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی اور شرح سود میں تدریجی کمی کو بھی معاشی بحالی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ دنوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ قرض رول اوور کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا، جو پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانے میں مدد دے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

جوغذا سے کولیسٹرول میں نمایاں کمی

جرمنی کی یونیورسٹی آف بون کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف دو دن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے