
جرمنی کی یونیورسٹی آف بون کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف دو دن تک اوٹس پر مشتمل کم کیلوریز غذا کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے، خاص طور پر میٹابولک سنڈروم کے شکار افراد میں۔
جرمنی کی University of Bonn کے محققین نے پایا ہے کہ چند دن تک اوٹس پر مشتمل غذا اختیار کرنے سے کولیسٹرول کی سطح پر حیران کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق صرف دو دن کی مخصوص غذائی مداخلت سے خون میں چکنائی کی سطح میں واضح کمی دیکھی گئی۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ اس مطالعے میں شامل تمام 32 بالغ افراد میٹابولک سنڈروم کا شکار تھے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کے امراض کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ اس سنڈروم میں موٹاپا، بلند فشار خون، خون میں شوگر کی زیادتی اور لپڈز کی بلند سطح شامل ہوتی ہے۔
تحقیق کے دوران شرکا کو دو دن تک تقریباً مکمل طور پر دلیے پر مشتمل کم کیلوریز غذا دی گئی۔ ہر شریک کو روزانہ تین بار پانی میں اُبالا گیا دلیہ فراہم کیا گیا، جس کی مجموعی مقدار 300 گرام تھی۔ انہیں صرف پھل یا سبزیاں شامل کرنے کی اجازت تھی اور وہ اپنی معمول کی یومیہ کیلوریز کا تقریباً نصف ہی استعمال کر رہے تھے۔
محققین نے موازنہ کے لیے ایک کنٹرول گروپ بھی شامل کیا جسے کم کیلوریز غذا دی گئی، تاہم اس میں اوٹس شامل نہیں تھے۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ دونوں گروپس میں کچھ بہتری دیکھی گئی، لیکن اوٹس استعمال کرنے والے گروپ میں کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
سائنس دانوں کے مطابق اوٹس میں موجود حل پذیر فائبر، خاص طور پر بیٹا گلوکن، خون میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور متعدد طبی مطالعات بھی فائبر سے بھرپور غذا کو دل کی صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹابولک سنڈروم دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق بالغ آبادی کا ایک بڑا حصہ اس کیفیت کا شکار ہے، جو دل کے دورے اور فالج کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ جرمنی سمیت یورپی ممالک میں بھی موٹاپے اور غیر متوازن غذا کے باعث یہ مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔
محققین نے خبردار کیا کہ یہ مطالعہ قلیل مدت پر مبنی تھا اور طویل المدتی اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔ تاہم ابتدائی نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سادہ غذائی تبدیلیاں بھی میٹابولک صحت پر فوری مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق صحت مند طرز زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش میٹابولک سنڈروم کے خطرات کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اوٹس پر مبنی کم کیلوریز غذا کو بھی اسی حکمت عملی کا ایک حصہ سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
UrduLead UrduLead