پیر , فروری 23 2026

رمضان میں تیزابیت، بدہضمی کیسز میں اضافہ

ماہرین کے مطابق رمضان میں غلط غذائی عادات کے باعث معدے کی تیزابیت اور بدہضمی کے کیسز بڑھ جاتے ہیں، تاہم متوازن غذا اور مناسب طرزِ زندگی سے ان مسائل سے مؤثر طور پر بچا جا سکتا ہے۔

رمضان المبارک میں روزوں کے دوران کھانے پینے کے اوقات بدلنے سے معدے کے امراض میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ افطار پر غیر متوازن اور مرغن غذا کا استعمال تیزابیت، گیس اور بدہضمی کی بڑی وجہ بنتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق افطار کے وقت جلدی جلدی اور زیادہ مقدار میں کھانا معدے پر اچانک دباؤ ڈالتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معدے میں تیزابیت بڑھتی ہے اور پیٹ پھولنے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال رمضان کے دوران معدے کے امراض کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر جامع اعدادوشمار دستیاب نہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پکوڑے، سموسے، پراٹھے اور دیگر تلی ہوئی اشیا کا زیادہ استعمال نظامِ ہضم کو متاثر کرتا ہے۔ مرچ مصالحے دار اور چکنائی سے بھرپور غذائیں معدے کی اندرونی جھلی کو متحرک کرتی ہیں، جس سے سینے میں جلن اور کھٹی ڈکاریں آ سکتی ہیں۔ سوڈا والے مشروبات اور کولڈ ڈرنکس تیزابیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں کیونکہ ان میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ معدے میں گیس پیدا کرتی ہے۔

طبی ماہرین سحری کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سحری چھوڑنے سے معدہ طویل عرصے تک خالی رہتا ہے جس سے تیزابیت بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح سحری کے فوراً بعد لیٹ جانا بھی معدے کے مسائل کو جنم دیتا ہے کیونکہ اس سے معدے کا تیزاب غذائی نالی کی طرف واپس آ سکتا ہے۔

ماہرین افطار کا آغاز کھجور اور پانی سے کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے ہلکی غذا جیسے سوپ یا پھل استعمال کرنا بہتر رہتا ہے۔ مغرب کی نماز کے بعد مناسب مقدار میں کھانا معدے پر بوجھ کم کرتا ہے اور ہاضمہ بہتر بناتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کھانا اچھی طرح چبا کر اور چھوٹے حصوں میں کھانے سے بدہضمی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ تلی ہوئی، زیادہ مصالحے دار اور چکنائی والی اشیا سے پرہیز مفید ہے۔ سوڈا والے مشروبات کے بجائے سادہ پانی یا قدرتی مشروبات کا استعمال بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین روزانہ افطار سے سحری کے درمیان آٹھ سے دس گلاس پانی پینے کی ہدایت دیتے ہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ ناریل کا پانی اور گھریلو مشروبات جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

گھریلو تدابیر بھی فائدہ مند قرار دی جاتی ہیں۔ کھانے کے بعد سونف چبانے یا سونف کا پانی پینے سے معدے کو سکون ملتا ہے۔ ادرک، لیموں اور شہد سے بنی چائے تیزابیت میں آرام پہنچا سکتی ہے۔ اسی طرح سوکھے لیموں، انار دانہ، پودینہ اور سونف کا پاؤڈر بھی روایتی طور پر مفید سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا، اعتدال اور صحت مند عادات اپنا کر رمضان میں معدے کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر تیزابیت شدید ہو یا علامات برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

انگلینڈ کی سری لنکا کو 51 رنز سے شکست

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹس میں انگلینڈ نے 146 رنز کا دفاع کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے