اتوار , فروری 22 2026

گیس گردشی قرض 3,283 ارب، کمپنیوں کو 60 ارب خسارہ

قومی اسمبلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض 3,283 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کو چوری اور لیکج سے سالانہ 60 ارب روپے نقصان ہو رہا ہے۔

پاکستان کے گیس سیکٹر کا گردشی قرض 3,283 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں 1,452 ارب روپے لیٹ پیمنٹ سرچارجز شامل ہیں۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو گیس چوری اور لیکج کے باعث مجموعی طور پر سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے حکام نے الگ الگ بریفنگ دی اور نقصانات کی تفصیلات پیش کیں۔

سوئی ناردرن کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے بتایا کہ کمپنی کا یو ایف جی 5.27 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرح آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے مقررہ ہدف سے بھی کم ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کو سالانہ تقریباً 30 ارب روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

سوئی سدرن کے ایم ڈی امین راجپوت نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کی کمپنی کے نقصانات بھی سالانہ تقریباً 30 ارب روپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نقصانات کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد تک لائی گئی ہے۔ ان کے مطابق انتظامی اقدامات اور مانیٹرنگ سسٹم بہتر بنانے سے بہتری آئی ہے۔

کمیٹی رکن گل اصغر خان نے دونوں گیس کمپنیوں کی نجکاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار چلانا حکومت کا بنیادی کام نہیں۔ ان کے مطابق 60 ارب روپے سالانہ نقصان عوام پر بوجھ بنتا ہے اور اس کا بوجھ صارفین کو منتقل کیا جاتا ہے۔

رکن کمیٹی سید نوید قمر نے گیس سیکٹر کے بڑھتے گردشی قرض پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس رفتار سے مالی دباؤ مزید بڑھے گا۔ ان کے مطابق اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو کمپنیاں مالی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔

ڈی جی گیس نے بتایا کہ گردشی قرض کی بڑی وجہ تاخیر سے ادائیگیاں اور نرخوں کا عدم توازن ہے۔ درآمدی ایل این جی کی لاگت زیادہ ہے جبکہ گھریلو صارفین کو سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس فرق کو پورا نہ کیا جائے تو مالی خسارہ بڑھتا رہتا ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق گیس انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ پرانی پائپ لائنوں میں لیکج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اسمارٹ میٹرنگ اور سخت نگرانی سے چوری کم کی جا سکتی ہے۔ اصلاحات کے بغیر گردشی قرض میں کمی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

حکومت اس وقت توانائی شعبے میں مالی استحکام کے لیے پالیسی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ گیس نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ اور وصولیوں میں بہتری زیر بحث ہیں۔ گیس سیکٹر کی مالی صورتحال آئندہ بجٹ اور پالیسی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرے گی، خصوصاً سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے حوالے سے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

حرمین شریفین میں 20 لاکھ زائرین کی نماز جمعہ

ولی عہد نے روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی FirstJumma-26 – 1 رمضان المبارک کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے