
ماہِ رمضان میں افطار کی رونقیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، مگر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہی وقت سب سے زیادہ احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ شوگر فری اور متوازن افطاری کا اہتمام کرکے نہ صرف بلڈ شوگر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ صحت مند روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق افطار کا آغاز کھجور سے ضرور کیا جا سکتا ہے، تاہم ذیابیطس کے مریض ایک یا زیادہ سے زیادہ دو کھجوروں پر اکتفا کریں۔ اس کے بعد لیموں پانی، سادہ پانی یا بغیر چینی کے شربت کا استعمال بہتر رہتا ہے۔ بازار میں دستیاب مصنوعی مشروبات اور میٹھے سیرپ سے پرہیز ضروری ہے کیونکہ یہ خون میں شوگر کی سطح اچانک بڑھا سکتے ہیں۔
شوگر فری پکوانوں میں بیسن یا دالوں سے تیار کردہ پکوڑے کم تیل میں ایئر فرائر یا اوون میں بنائے جا سکتے ہیں۔ فروٹ چاٹ تیار کرتے وقت چینی شامل کرنے کے بجائے سیب، امرود، اسٹرابیری اور پپیتے جیسے کم گلیسیمک انڈیکس والے پھل استعمال کیے جائیں۔ دہی بھلے بھی کم چکنائی والے دہی سے بنائے جا سکتے ہیں، جبکہ میٹھی چٹنی کے بجائے پودینے اور املی کی ہلکی چٹنی بہتر انتخاب ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سفید آٹے اور میدے سے بنی اشیا کی جگہ براؤن بریڈ، چنے، لوبیا اور دلیہ جیسے فائبر سے بھرپور اجزا شامل کیے جائیں۔ فائبر ہاضمہ بہتر بناتا ہے اور شوگر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے۔ اسی طرح شوگر فری کسٹرڈ، بادام کی کھیر (اسٹیویا یا دیگر منظور شدہ متبادل کے ساتھ) اور چیا سیڈ پڈنگ صحت بخش میٹھے کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق افطار کے فوراً بعد زیادہ مقدار میں کھانا کھانے کے بجائے وقفے وقفے سے کم مقدار میں غذا لینا مفید ہے۔ افطار کے بعد ہلکی چہل قدمی بھی بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ ہر مریض اپنی ادویات اور انسولین کے استعمال سے متعلق اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرے، کیونکہ ہر فرد کی طبی حالت مختلف ہو سکتی ہے۔ مناسب احتیاط اور متوازن غذا کے ذریعے ذیابیطس کے مریض بھی رمضان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
UrduLead UrduLead